Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

تعویذ سے زیادہ دُعا مفید

انسان آرام طلب اور سہولت پسند ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ کام بھی ہوجائے اور کچھ کرنا بھی نہ پڑے ، خصوصاََ جب کہ کوئی وظیفہ پابندی کے ساتھ پڑھنے اور مسلسل دُعا کرنے کی نوبت آئے تو اور بھی اس کا جی گھبراتا ہے، حالانکہ صبح و شام سوتے جاگتے وقت ان دُعائوں کواگر پڑھتا رہے ،جو احادیث میں وارد ہیں تو بہت سی مصیبتوں سے نجات پا جائے، لیکن اس کااہتمام نہیں کیا جا تا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ فرماتے ہیں کہ آج کل لوگ اپنے مقاصد میں اور امراض و مصیبتوں کو دور کرنے کے لئے، تعویذ گنڈے وغیرہ کی تو بڑی قدر کرتے ہیں اس کے لئے کوشش بھی کرتے ہیں اور جو اصل تدبیر ہے یعنی اللہ سے دُعا اس میںغفلت برتتے ہیں ، میرا تجربہ یہ ہے کہ کوئی بھی نقش و تعویذ دُعا کے برابر مؤثر نہیں، ہاں دُعا کو دُعا کی طرح مانگا جائے اور ان باتوں سے پرہیز کیا جائے جن کی وجہ سے دُعا قبول نہیں ہوتی

تعویذ سے زیادہ دُعا مفید

انسان آرام طلب اور سہولت پسند ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ کام بھی ہوجائے اور کچھ کرنا بھی نہ پڑے ، خصوصاََ جب کہ کوئی وظیفہ پابندی کے ساتھ پڑھنے اور مسلسل دُعا کرنے کی نوبت آئے تو اور بھی اس کا جی گھبراتا ہے، حالانکہ صبح و شام سوتے جاگتے وقت ان دُعائوں کواگر پڑھتا رہے ،جو احادیث میں وارد ہیں تو بہت سی مصیبتوں سے نجات پا جائے، لیکن اس کااہتمام نہیں کیا جا تا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ فرماتے ہیں کہ آج کل لوگ اپنے مقاصد میں اور امراض و مصیبتوں کو دور کرنے کے لئے، تعویذ گنڈے وغیرہ کی تو بڑی قدر کرتے ہیں اس کے لئے کوشش بھی کرتے ہیں اور جو اصل تدبیر ہے یعنی اللہ سے دُعا اس میںغفلت برتتے ہیں ، میرا تجربہ یہ ہے کہ کوئی بھی نقش و تعویذ دُعا کے برابر مؤثر نہیں، ہاں دُعا کو دُعا کی طرح مانگا جائے اور ان باتوں سے پرہیز کیا جائے جن کی وجہ سے دُعا قبول نہیں ہوتی

بے خوابی ہو تو یہ پڑھے

 اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَمَا اَظَلَّتْ وَرَبَّ اْلَارْضِیْنَ ومَا اَقَلَّتْ وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنَ وَمَا اَضَلَّتْ کُنْ لِّیْ جَارًا مِنْ شَرِّخَلْقِکَ اَجْمَعِیْنَ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیَّ اَحَدُٗ مِّنْہُمْ اَوْ یَّطْغٰی عَزَّ جَارُکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ۔

’’اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور ہر اس مخلوق کے پروردگار جس پر وہ سات آسمان سایہ فگن ہیں اور ساتوں زمینوں اور ہر اس مخلوق کے پروردگار جس کو وہ زمینیں اُٹھائے ہوئے ہیں اور تمام شیطانوں اور ان لوگوں کے پروردگار جن کو شیاطین نے گمراہ کیا ہے تو اپنی مخلوق کے شر سے میرا محافظ اور پناہ دینے والا بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی مجھ پر ظلم نہ کرے۔ تیرا پناہ دیا ہوا (شخص) ہی غالب اور محفوظ رہتا ہے اور تیرا نام بابرکت ہے۔‘‘

جس کی آنکھ میں کوئی درد یا تکلیف ہو تو یہ پڑھ کر دم کرے

بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ حَرَّھَا وَبَرْدَھَا و َوَصَبَھَا۔

’’میں اللہ کا نام لے کر دم کرتا ہوں اے اللہ اس کی گرمی اور ٹھنڈک اور مرض کو دُور فرما۔‘‘ اس کے بعد یو ں کہے قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ (اللہ کے حکم سے کھڑا ہو جا) (نسائی ، ابن ماجہ، حاکم،طبرانی عن جابر بن ربیعہؓ)

جس کی عقل ٹھکانے نہ ہو

سورۃ فاتحہ

سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا جائے صبح شام تین روز تک دم کر کے جب بھی سورۃ فاتحہ ختم کر ے تو اپنا تھوک منہ میں جمع کرے پھر اسے اس شخص پر تھتکار دے جس کی عقل ٹھکانے نہ ہو۔ (ابودائود، نسائی، عن خارجہ بن الصللت عن عمہؓ)

سانپ بچھو کے ڈسنے کا علاج

سورۃ فاتحہ

جسے سانپ (وغیرہ) ڈس لے اس پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا جائے۔ (صحاح ستہ ابی سعیدؓ)اور یہ دم کرنا سات مرتبہ ہو۔ (ترمذی عن ابی سعیدؓ)حضور اقدس ﷺ کو بحالت نماز ایک مرتبہ بچھو نے ڈس لیا آپ ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا بچھو پر اللہ کی لعنت ہو نہ نماز پڑھنے والے کو چھوڑتا ہے نہ کسی دوسرے کو اس کے بعد پانی اور نمک منگایا اور نمک کو پانی میں گھول کر ڈسنے کی جگہ پر پھیرتے رہے اور سورۃ قُلْ یَآ اَیَّھَا الْکٰفِرُوْنَ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقْ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس پڑھتا رہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن علیؓ)

جلے ہوئے پر یہ پڑھ کر دم کرے

 اَذْھِبِ الْبَأَسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ لَاشَافِیَ اِلّآ اَنْتَ

’’اے سب انسانوں کے رب تکلیف کو دور فرما تو شفا دے کیونکہ تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔‘‘ (نسائی، احمد عن محمد بن حاطب)

جب کسی کا پیشاب بند ہوجائے یا پتھری کا مرض ہو

رَبَّنَا اللّٰہُ الَّذِیْ فِیْ السَّمَآئِ تَقَدَّسَ اسْمُکَ اَمْرُکَ فِیْ السَّمَآئِ وَاْ لْاَرْضِ کَمَا رَحْمَتُکَ فِیْ السَّمَآئِ فَاجْعَلَ رَحْمَتَکَ فِیْ الْاَرْضِ وَاْغْفِرْلَنَا حُوْبَنَا وَخَطَایَانَآ اَنْتَ رَبُّ الطَّیِّبِیْنَ فَاَنْزِلْ شِفآئً مِّنْ شِفَآئِکَ وَرَحْمَۃً مِنْ رَحْمَتِکَ عَلٰی ھٰذَا الْوَجَعِ فَیَبْرَأُ

’’ہمارا رب وہ ہے جو آسمان میں (معبود) ہے تیرا نام پاک ہے تیرا حکم آسمان اور زمین میں جاری ہے جیسا کہ تیری رحمت آسمان میں ہے سو تو زمین میں بھی اپنی رحمت بھیج اورہمارے گناہ اور ہماری خطائیں بخش دے تو پاکیزہ لوگوں کا رب ہے سو تو اپنی شفائوں میں سے ایک شفا اور اپنی رحمتوں میں سے ایک رحمت اس درد پر اتار دے جس سے وہ اچھا ہوجائے۔‘‘ (نسائی ، ابودائود، حاکم ، عن ابی الدرداءؓ)

جب بدن میں کسی جگہ زخم ہو یا پھوڑا پھنسی ہو

تو شہادت کی انگلی کو منہ کے لعاب میں بھر کر زمین پر رکھ دے اور پھر اُٹھا کر تکلیف کی جگہ پرپھیرتے ہوئے یہ پڑھے:

بِسْمِ اللّٰہِ تُرْبَۃُ اَرْضِنَا بِرِیْقَۃِ بَعْضِنَا یَشْفٰی سَقِیْمُنَا اَوْ لِیُشْفٰی سَقِیْمُنَا بِاذُنِ رَبِّنَاط

’’میں اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتا ہوں یہ ہماری زمین کی مٹی ہے جو ہم سے کسی کے تھوک میں ملی ہوئی ہے تاکہ ہماری بیماری کو ہمارے رب کے حکم سے شفا ہو۔‘‘ (مسلم عن عائشہؓ)

اگر بدن میں کسی جگہ درد ہو

  • یا کوئی اور تکلیف ہو تو تکلیف کی جگہ داہنا ہاتھ رکھ کر تین بار بسم اللہ کہے پھر سات بار یہ پڑھے
  • اَعُوْذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّمَااَجِدُ وَاُحَاذِرُ

’’اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں اس چیز کے شر سے جس کی تکلیف پار رہا ہوں اور جس سے ڈر رہا ہوں۔‘‘ (مسلم، سنن اربعہ عن عثمان بن ابی العاصؓ)

  • سات مرتبہ یہ پڑھے:
  • اَعُوْذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّمَااَجِدُ

’’اللہ کی عزت اور قدرت کی پناہ لیتا ہوں میں اس چیز کے شر سے جس کو میں محسوس کر رہا ہوں‘‘ (موطا، ابن ابی شیبہ عن ابن ابی العاصؓ)

  • یا تکلیف کی جگہ ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ یہ پڑھے:
  • اَعُوْذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ مِّنْ شَرِّمَا اَجِدُ

’’اللہ کی عزت اور قدرت کی پناہ لیتا ہوں میںہر اس چیز کے شر سے جس کو میں محسوس کر رہا ہوں‘‘ (مسند، احمد طبرانی فی الکبیر عن کعب بن مالکؓ)

آنکھ دکھنے آجائے تو یہ پڑھے

اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِیَصَرِیْ وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّیْ وَاَرِنِیْ فِیْ الْعَدُوِّ ثَأْرِیْ وَانْصُرْنِیْ عَلٰی مَنْ ظَلَمَنِیْ

’’اے اللہ میری بینائی سے مجھے نفع پہنچا اور میرے مرتے دم تک اسے باقی رکھ اور دشمن میں میرا انتقام مجھے دکھا اورجس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے مقابلہ میں میری مدد فرما ۔‘‘

جس کو بخار چڑھ آئے یہ دُعا پڑھے

ِاَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِیَصَرِیْ وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّیْ وَاَرِنِیْ فِیْ الْعَدُوِّ ثَأْرِیْ وَانْصُرْنِیْ عَلٰی مَنْ ظَلَمَنِیْ

’’اللہ کا نام لے کر شفا چاہتا ہوں جو بڑا ہے میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جو عظیم ہے۔ جوش مارتی ہوئی رگ کے شرسے اور آگ کی گرمی سے شر سے۔‘‘

اگر زندگی سے عاجز آجائے۔

 ’’اے اللہ تو مجھے زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو مجھے اُٹھا لینا۔‘‘ (بخاری ، مسلم ، ابودائود، ابن سنی عن انسؓ)

جب کسی مریض کی عیادت کرے تو یوں تسلی دے

لَا بَأْسَ طُھُوْرُٗ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ لَا بَأْسَ طُھُوْرُٗ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ

’’کچھ حرج نہیں انشاء اللہ بیماری گناہوں سے پاک کرنے والی ہے کچھ حرج نہیں ان شاء اللہ یہ بیماری گناہوں سے پاک کرنے والی ہے۔‘‘ (بخاری، مسلم، ابودائود، نسائی،ابن ماجہ عن عائشہؓ)

 

تیرے سوا کوئی معبود نہیں (اے اللہ) تو پاک ہے میں نے اپنی جان پر ظلم کیا )اور پھر اسی مرض میں مرجائے تو اسے شہید کا ثواب دیا جائے گا اور اگر اچھا ہو گیا تو اس حال میں اچھا ہو گا کہ اس کے سب گناہ معاف ہو چکے ہوں گے۔ فرمایا رسو ل اکرم ﷺ نے کہ جو مسلمان مرض کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو ان الفاظ میں چالیس مرتبہ پکارے (حاکم عن سعد بن ابی وقاصؓ)

شہادت کی تمنا اور اس کا سوال

لَا اِلٰـہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ۔ (آیتِ کریمہ)

فرمایا رسول اکرم ﷺ نے کہ جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے شہادت کے مرتبہ میں پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پر مر جائے۔(مسلم، سنن اربعہ، عن سہل بن

حنیفؓ)

جان کنی کے وقت کے اعمال

 اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَالْحِقْنِیْ بِاالرَّفِیْقِ اْلَاعْلٰی

اے اللہ مجھے بخش دے اور کچھ پر رحم فرما اور مجھے اوپر والے ساتھیوں میں پہنچادے۔(بخاری، مسلم ، ترمذی عن عائشہؓ) جب کہ معلوم ہونے لگے کہ موت کا وقت قریب ہے تو جو لوگ وہاں حاضر ہوں وہ اس کا منہ قبلہ کی طرف پھیر دیں۔ (حاکم عن ابی قتادۃ)

مہلک حادثات سے بچنے کی دعا

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَدَمِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ التَّرَدِّیْ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْھَرَمِ وَاَعُوْذُبِکَ اَنْ یَتَخَبَّطَنِیَ الشَّیْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اَمُوْتُ فِیْ سَبِیْلِکَ مُدْبِرًا وَّاعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اَمُوْتُ لَدِیْغًا۔

اے اللہ ! میں تجھ سے پنا ہ چاہتا ہوں کسی عمارت وغیرہ کے نیچے دب جانے سے اور گر کر اور ڈوب کر اور جل کر مرنے سے اور بہت زیادہ بوڑھا ہوجانے سے اور اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان مجھے مرتے وقت گمراہ کردے اور اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرے راستہ میں پیٹھ پھیرتے ہوئے مروں اور اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ (سانپ، بچھو وغیرہ کے) ڈسنے سے مروں۔ (ابودائود ، نسائی، حاکم عن ابی یسرؓ)

مہلک بیماریوں سے بچنے کی دعا

  • اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَسَیِّ ئِ الْاَسْقَامِ

اے اللہ ! میں برص اور جنون اور جذام اور برے امراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (ابودائود نسائی، ابن ابی شیبہ عن انس ؓ)

  • اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالھَرَمِ وَفِتْنَۃِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ط

اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو اور ایسے دل سے جس میں خشوع نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو

  • وَاَعُوذُبِکَ مِنَ الْقَسْوَۃِ وَالْغَفْلَۃِ وَالذِّلَّۃِ وَالْمَسْکَنَۃِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْکُفْرِ وَالْفُسُوْقِ وَالشِّقَاقِ وَالسُّمُعَۃِ وَالرِّیَآئِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَکَمِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَسَیِّ ئِ الْاَ سْقَامِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ۔

اور تجھ سے پنا مانگتا ہوں دل کی سختی سے اور غفلت سے اور محتاجی سے اور ذلت اور خواری سے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں فقر سے اور کفر سے اور دکھاوے سے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں بہرہ پن سے اور گونگے پن سے اور دیوانگی سے اور جذام (کوڑھ) سے اور برے امراض سے اور قرض کے بوجھ سے۔(ابن حبان، حاکم، طبرانی فی الصغیر عن انس ؓ)

سماعت اور بینائی میں برکت کی دعا

اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِسَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَاجْعَلْھُمَا الْوَارِثَ مِنِّیْ وَانْصُرْنِیْ عَلٰی مَّنْ یَّظْلِمُنِیْ وَخُذْ مِنْہٗ بِثَأْرِیْ

اے اللہ ! مجھے میری سماعت اور میری بینائی سے استفادہ نصیب فرمائیے اور (آخر عمر تک) ان دونوں کو باقی رکھئے اور جو مجھ پر ظلم کرے اس کے مقابلہ میں میری مدد فرمائیے اور اس سے میرا انتقام لیجئے۔ (ترمذی، حاکم، بزار عن ابی ہریرہ ؓ)

صحت وغیرہ کی دعا

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْائَلُکَ الصِّحَّۃَ وَالْعِفَّۃَ وَالْاَمَانَۃَ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالرَّضٰی بِالْقَدْرِ ۔

اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ یہ دعا کرتے تھے۔

مبتلاء بیماری و مصیبت کو دیکھ کر پڑھنے کی دعا

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیرٍ مِمّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا۔

حضرت عمر ابن خطاب ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ دونوں کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مبتلاء مصیبت (بیمار) کو دیکھے اور دیکھ کر یہ دعا پڑھے تو وہ اس مصیبت (بیماری) میں مبتلا نہیں ہوگا۔

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com