Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - جنوری - 2018
۲۸ - ربيع الثاني - ۱۴۳۹

سوال

جب کسی ڈاکٹرکی وارڈمیں ڈیوٹی ہوتوکیاوہ ڈاکٹرمسجدمیں نمازباجماعت کیلئے جاسکتاہے؟ اس میں مختلف صورتیں ہیں۔ (۱) وارڈمیں کوئی اورڈاکٹرنہ ہو۔ (۲) وارڈمیں اورڈاکٹرموجودہوں۔ (۳) وارڈمیں کوئی اورڈاکٹرنہ ہواورسب مریضوں کی حالت صحیح ہو۔


جواب:

وارڈمیں ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹرنمازباجماعت اداکرنے کیلئے جاسکتاہے اوراگروارڈمیں کوئی ڈاکٹرنہ ہواورمریض کوتکلیف پہنچنے کااندیشہ ہوتونمازجماعت سے مؤخرکرکے پڑھ لیں۔ بصورتِ دیگرجب وارڈمیں دوسرے ڈاکٹرہوں تواس صورت میں نمازباجماعت اداکرنے کیلئے مسجدمیں جایاجاسکتاہے۔ البتہ بہتریہ ہے کہ ڈاکٹرصاحب مسجدمیں فرائض پراکتفاء کریں اورسنتیں نفلیں وارڈمیں آکراداکریں جبکہ مریضوں کوان کی ضرورت ہو۔


حوالہ:

۸۳/۱ فی الھندیہ: والـصحیح انہاتسقط بالمطوروالطیف …… اوکان قیمامریض۔
۷۰/۶ فی الدر: ولیس للخاص ان یعمل لغیرہ ولوعمل نقص من اجرتہ بقدرماعمل فتاوی النوازل وفی الشامیۃ (قولہ ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ) بل ولاأن یصلی النافلۃ: قال فی التاتارخانیہ: وفی فتاوی الفضلی واذااستأجررجلایومایعمل کذافعلیہ ان یعمل ذلک العمل الی تمام المدۃ ولایشغل بشیٔ آخرسوی المکتوبۃ وفی فتاویٰ سمرقند: وقدقال بعض مسشایخنالہ ان یؤدی السنۃ ایضا: واتفقواانہ لایؤدی نفلاوعلیہ الفتویٰ۔

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com