Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال:

میرے والدصاحب عرصہ تین سال سے صاحبِ فراش ہیں اوران کوہوش بھی نہیں ہے۔ والدصاحب عالم نہیں اورسلسلہ نقشبندیہ کے خلیفہ بھی ہیں۔ اپنی گزشتہ زندگی میں صوم وصلوٰۃ کے پابندتھے۔ اب وہ نمازنہیں پڑھ سکتے کیونکہ ان کوہوش نہیں ہے۔ کیاان کی نمازوں کااورروزوں کافدیہ دیناپڑیگا۔ فدیہ کی رقم اداکرنے کی استعدادبھی نہیں ہے۔


جواب:

مذکورہ صورت میں آپ کے والدصاحب جب سے بیہوش ہیں اس مدت کی نمازوں اورروزوں کی قضاء ان کے ذمہ لازم نہیں ہے۔ لہٰذاان ایام کی نمازوں اورروزوں کافدیہ بھی ان کے ذمہ لازم نہیں۔ البتہ بیماری کے جتنے ایام میں ان کے ہوش وحواس درست تھے اوربیٹھ کریالیٹ کریااشارے سے کسی طرح بھی نمازپڑھ سکتے تھے تواتنے دنوں کی نمازوں اورروزوں کی قضاء نہ کرسکیں تواس کافدیہ اداکیاجاسکتاہے اورفدیہ میں یہ تفصیل موجودہے کہ اگرانہوں نے گزشتہ زندگی میں قضاء نمازوں اورروزوں کافدیہ دینے کی وصیت کی تھی یاہوش میں آنے کے بعدوصیت کردی تھی توان کی وفات کے بعدان کے ترکہ کے ایک تہائی حصہ سے ان کی نمازوں اورروزوں کافدیہ اداکیاجائیگا۔ لیکن اگرانہوں نے وصیت نہیں کی یاوصیت کی تھی مگرترکہ کے ایک تہای حصہ سے فدیہ مکمل ادانہ ہوسکاتوورثہ پربقیہ ترکہ سے اس کی ادائیگی ضروری نہیں۔ البتہ اگرکسی وارث نے اپنی طرف سے فدیہ اداکردیایاورثہ میں سب بالغ ہوں اوران سب نے اپنی رضامندی سے کل ترکہ میں سے فدیہ کی ادائیگی کردی تویہ بھی جائزہے۔

فی الدرالمختارص ۴۹۷، ج۲ طبع بیروت


حوالہ:

وان تعذرت الایماء برأسہ وکثرت الفوائت بأن زادت علٰی یوم ولیلۃ سقط القضاء عنہ …………………… لأن مجرّدالعقل لایکفی لتوجّہ الخطاب۔ وفیہ ایضاً

ولواشتبہ علٰی مریض أعدادالرکعات والسجدات لنعاس یلحقہ لایلزمہ الأداء وفیہ ایضاً ص۱۰۲، ج۲ طبع ایچ۔ایم۔ سعید

ومن جنّ أوأعمی علیہ ولوبفزع من سبع أوآدمیّ یوماً ولیلۃ قضی الخمس وان زادوقت صلاۃ سادسۃ لاللحرج ولوأفاق فی المدّۃ ………………………… واللّٰہ سبحانہ وتعالٰی أعلم


Fatwa No. fno595.51

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com