Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

سوال:

بستر پر پڑا ہوا مریض جس کا بستر اور کپڑے ناپاک ہیں کیسے نماز پڑھے؟کپڑے اور بستر کا بار بار تبدیل کرنا یا کروانا بہت مشکل ہے۔


الجواب حامد او مصلیا:

سوال میں مریض کی پوری حالت اور عذر کی پوری وضاحت مذکور نہیں ہے ۔ لہٰذا اگر یہ مریض معذورِ شرعی نہیں ہے ، اور صرف نماز کے اوقات میں کپڑوں اور بستر کی تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے، تو ایسی صورت میں چونکہ نماز کیلئے طہارت ضروری ہے اس لئے ناپاک کپڑوں اور ناپاک بستر پر نماز درست نہ ہوگی ، البتہ اگر نجاست ایک درہم یعنی تھیلی کی گہرائی کے برابر یا اس سے کم ہو تو اس کے ساتھ نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ، اور اگر یہ شخص معذورِ شرعی ہے، (معذور اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جس پر (کم از کم) ایک نماز کا وقت اس طرح گزرے ، کہ چار رکعت فرض نماز کی ادائیگی کے وقت برابر بھی وضو وغیرہ باقی نہ رہ سکے ، اور اس کے بعد اس عذر کے باقی رہنے کیلئے ضروری ہے کہ ہر نماز کے وقت میں کم ازکم ایک بار وہ عذر پیش آئے ، تو اس صورت میں شرعاً وہ شخص معذور ہے)اور اگر نماز پڑھنے کے وقت کے برابر بھی اس کے کپڑے وغیرہ پاک نہیں رہ سکتے ، تو جس حالت میں ہو اسی میں نماز ادا کرلی جائے۔


حوالہ:

الفتاوی الھندیۃ ۔( 40/1)
شرط ثبوت العذر ابتداء أن یستوعب استمرارہ وقت الصلاۃ کاملا وھو الأظھر کالانقطاع لا یثبت مالم یستوعب الوقت کلہ .....وشرط بقائہ أن لا یمضی علیہ وقت فرض الا والحدث الذی ابتلی بہ یوجد فیہ ھکذا فی التبیین۔
البحر الرائق، دارالکتاب الاسلامی ۔( 124/2)
مریض مجروح تحتہ ثیاب نجسۃ ان کان بحال لا یبسط تحتہ شیءً الا تنجس من ساعتہ لہ أن یصلی علی حالہ وکذا لو لم یتنجس الثانی الا انہ یذداد مرضہ لہ أن یصلی فیہ اھ۔
و فی الو لو الجیۃ المریض اذا کان لا یمکنہ الوضوءُ أو التیم ولہ جاریۃ فعلیھا أن توضئہ لأنھا مملوکۃ وطاعۃ المالک واجبۃ اذا عری عن المعصیۃ واذا کان لہ امرأۃ لا یجب علیھا أن توضئہ لأن ھذا لیس من حقوق النکاح الا اذا تبرعت فھو اعانۃ علی البر۔
الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین (ردالمحتار) ۔)306/1)
(وان سال علی توبہ) فوق الدرھم (جاز لہ أن لا یغسلہ ان کان لو غسلہ تنجس قبل الفراغ منھا)أی: الصلاۃ (والا) تنجس قبل فراغہ (فلا) یجوزترک غسلہ ، ھو المختار للفتوی، (قولہ: ھو المختار للفتوی) وقیل یجب غسلہ أصلا، وقیل: ان کان مقیدا و کذا مریض لا یبسط توبہ الا تنجس فورا لہ ترکہ۔
الفتاوی الھندیۃ ۔ ( 49/1)
والرجل المریض اذا لم یکن لہ امرأۃ ولا أمۃ ولۃ ابن أو أخ وھو لا یقدر علی الوضوء فانہ یوضئہ ابنہ أو أخوہ غیر الاستنجاء فانہ لا یمس فرجہ وسقط عنہ الاستنجاءُ . کذا فی المحیط. المرأۃ المریضۃ اذا لم یکن لھا زوج وعجزت عن الوضوء ولھا ابنۃ أو أخت توضئھا ویسقط عنھا الاستنجاءُ. کذا فی فتاوی قضی خان.
الفتاوی الھندیۃ ۔ ( 48/1)
وان کانت النجاسۃ علی موضع الاستنجاء اکثر من قدر الدرھم فاستجمر ولم یغسلھا ذکرفی شرح الطحاوی أن فیہ اختلافاً بعضھم قالوا ان مسحہ بثلاثۃ أحجار أنقاہ ْازت قال وھو الاصح وبہ قال الفقیہ أبو الیث.کذا فی المحیط وھو المختار. کذا فی السراجیۃ.
البحر الرائق ۔( 393/2)
(قولہ: وعفی قدر الدرھم کعرض الکف من نجس مغلظ کالدم والبول والخمر وخرء الدجاج وبول مالا یؤکل لحمہ والروث والخشی) ؛ ... ومرادہ من العفوصحۃ الصلاۃ بدون ازالتہ لا عدم الکراھۃ لما فی السراج الوھاج وغیرہ ان کانت النجاسۃ سدر الدرھم تکرہ الصلاۃ معھا اجماعا.....واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com