Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

سوال:

بعض دفعہ ڈاکٹرصاحبان ادویات سازکمپنی والوں سے مطالبے کرتے ہیں، مثلاً یہ آلہ دلوادویافلاں چیزدلوادویافلاں جگہ کاٹکٹ دلوادووغیرہ وغیرہ۔ اس میں بعض دفعہ مریضوں کافائدہ ہوتاہے اوربعض دفعہ ڈاکٹرکااپنی ذات کافائدہ ہوتاہے۔ ڈاکٹرحضرات کاکہناہے یہ کمپنیاں مریضوں سے ادویات میں اتنازیادہ ناجائزفائدہ حاصل کرتی ہیں اس لئے ان سے مریضوں کیلئے مطالبہ کرناٹھیک ہے یاہماری وجہ سے یعنی ڈاکٹرکی وجہ سے ان کی کمپنی کواتنافائدہ ہورہاہے، اس لئے ان سے مطالبہ کرناٹھیک ہے۔ شرعی لحاظ سے کیاڈاکٹراپنی ذات کیلئے یامریضوں کیلئے کمپنی سے مطالبہ کرسکتاہے؟


جواب:

کسی مخصوص کمپنی کی دوامریض کولکھ کردینااورپھردواسازکمپنیوں سے کمیشن یامذکورہ دیگرمراعات حاصل کرناجائزہے بشرطیکہ مندرجہ ذیل شرائط کالحاظ کیاجاتاہو۔
(الف) محض کمیشن وصول کرنے کی خاطرڈاکٹرغیرمعیاری وغیرضروری اورمہنگی ادویات تجویزنہ کرے۔
(ب) کسی دوسری کمپنی کی دواء مریض کیلئے زیادہ مفیدسمجھتے ہوئے خاص اس کمپنی ہی کی دواء تجویزنہ کرے۔
(ج) دواء سازکمپنیاں ڈاکٹرکودیئے جانے والے کمیشن اورمراعات کاخرچہ ادویات کومہنگی کرکے وصول نہ کریں۔ کمیشن اورمراعات کی ادائیگی کاخرچہ وصول کرنے کیلئے ادویات کے معیارمیں کمی نہ کریں۔ (مأخذہ تبویب ۳۶/۱۸۶،۹۷/۹۴ بتصرف) واللہ سبحانہٗ اعلم


حوالہ:


Fatwa No. fno81.404

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com