Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال

میکٹرفارماپاکستان کی صفِ اوّل کی دواسازکمپنیوں میں سے۔ دوسال قبل ادارے نے اپنے ’’VISION‘‘ سازی کے دوران مندرجہ ذیل بنیادی اقدارادارے پرعائدکرنے پراتفاق کیا۔ ۱۔ سچائی اوردیانتداری: ۲۔ انصاف: ۳۔ خوش اخلاقی: ۴۔ رزقِ حلال :

رزقِ حلال کے حصول کیلئے شریعت کے احکامات کی پابندی اورادارے کے قوانین کی پابندی اصول ٹھہرائے گئے۔ اورہرڈیپارٹمنٹ پرلازم کردیاگیاکہ اپنے دائرۂ کارمیں ان تمام چیزوں کی نشاندہی کریں جس میں شریعہ سے غیرمطابقت کایقین یاشک ہواورمنصوبہ بندی کے تحت ان تمام کاموں کوشریعہ کے مطابق کیاجائے یارَدّ کردیاجائے۔

ادارے کے دوبنیادی ڈیپارٹمنٹ مارکیٹنگ اورفنانس ہیں۔ فنانس میں معاملہ بالکل واضح ہے۔ ہمیں سودختم کرناہے اورہمیں گورنمنٹ کے Taxes & Duties قانون اورشریعت کے دائرۂ کارمیں رہتے ہوئے مکمل اداکرنے ہیں۔

مارکیٹنگ میں چیزیں اتنی واضح نہیں ہیں اوریہی وجہ ہے کہ اس خط کے ذریعہ آپ سے شریعت کی روشنی میں مدداورمشورہ درکارہے۔

فارماسیوٹیکل مارکیٹنگ کے بارے میں چندالفاظ: ادویات کی مارکیٹنگ کوIndirect Marketing بھی کہاجاسکتاہے۔ ڈاکٹر(جومریض کودوائی لکھتاہے) دواسازکمپنی کاکسٹمرہوتاہے، لیکن Consumer مریض ہوتاہے۔ پاکستان میں ۵۰۰ سے زائددواسازکمپنیاں ہیں، ہزاروں Registered ادویات (۱۳۰۰۰ ہزارسے زائد) اوردواسازکمپنیوں کے ہزاروں کارندے (Salds rep) ڈاکٹرحضرات کواپنی دوائی لکھوانے پرمأمورہیں۔ ایک سروے کے مطابق ہردِن ایک مناسب پریکٹس رکھنے والے ڈاکٹرکو۲۰ سے زیادہ Sales Rep ملتے ہیں جوکم ازکم اپنی تین دوائیاں اس ڈاکٹرکوPromote کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ایک ڈاکٹرکے کلینک میں ہونیوالی مارکیٹنگ کی جنگ کاآپ خوداندازہ لگاسکتے ہیں۔

غرض یہ کہ ڈاکٹرسے دوائیاں لکھوانے کیلئے دواسازکمپنیاں مختلف طورطریقے اپناتی ہیں۔ مثلاً

1۔ Product Literature: دوائی سے متعلق ضروری معلومات Brochure کی شکل میں ڈاکٹرکودئیے جاتے ہیں۔ Sales Rep ان کی مددسے ڈاکٹرکواپنی پروڈکٹ کی خصوصیات سے آگاہ کرتاہے۔

2۔ Free of Cost Samples : ڈاکٹرکااعتمادحاصل کرنے کیلئے ڈاکٹرکواپنی پروڈکٹ کے Samples فراہم کرتے ہیں۔ اس کے استعمال سے ڈاکٹرکودوائی کی کوالٹی پراطمینان بھی ہوجاتاہے اوربعدمیں ان Samples کے دینے سے ڈاکٹرکودوائی یادبھی رہتی ہے۔

3۔ Gift/Giveaways: ڈاکٹرکی عام استعمال کی چیزیں مثلاً Pens، Pads، Table Clocks،Files، Torches وغیرہ وغیرہ ان تحائف پرکمپنی کے پروڈکٹس کانام لکھاہوتاہے تاکہ ڈاکٹرکودوائی کانام یادرکھنے میں مشکل نہ ہو۔

مندرجہ بالاActivities میں ظاہری طورپرشریعہ سے غیرمطابقت نظرنہیں آتی۔ البتہ یہ ذمہ داری اپنی جگہ برقراررہتی ہے کہ کمپنی اس بات کااہتمام کرے کہ جوکچھ میڈیکل لٹریچرمیں لکھاجارہاہے، وہ سچ ہے اوراس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ اسی طریقے سے اگردوائی کے Samples دیئے جارہے ہیں (چونکہ ان کوقانوناً فروخت نہیں کیاجاسکتا) کہیں ڈاکٹریاSales Repان کوبیچ تونہیں رہا، یااگرعام استعمال کے تحفے دئیے جارہے ہیں توان کی قیمت مناسب ہونی چاہئے نہ کہ یہ کہ انتہائی قیمتی تحائف دئیے جائیں۔

انActivities کے علاوہ مندرجہ ذیل Marketing Activities ہیں جوموجودہ حالات میں عام رائج ہیں۔ فارماکمپنیاں یہ Servicesبڑھ چڑھ کرڈاکٹرزکوOffer کرتی ہیں یادوسری طرف ڈاکٹرزفارماکمپنیوں سے ان کابھرپورتقاضاکرتے ہیں۔ معذرت کرنے کی صورت میں ڈاکٹرسے تعلقات خراب ہوجاتے ہیں۔ یعنی اگرتوڈاکٹرصاحب دوائی لکھ رہے تھے تولکھناکم کردینگے یابندکردینگے اوراگردوائی پہلے یہ نہیں لکھ رہے تھے توآئندہ بھی نہیں لکھیں گے۔

4۔ Personal Services: کئی ڈاکٹرزدوائی کولکھنے کے عوض کسی بھی قسم کی چیزکاتقاضاکرتے ہیں۔ اس میں ڈاکٹرکے گھریاذاتی کلینک کے لئے Carpet، Fridge، A/c، فیملی کے ساتھ سیروتفریح کے اخراجات وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

5۔ Academic Service : ان سے مرادوہ تمام تحائف (Gifts) جن کاتعلق میڈیکل کے علم سے ہو۔ اس میں میڈیکل کی Text Books ، مختلف Specialities کے چھپنے والے قومی اوربین الاقوامی ریسرچ Journals وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ملکی اورغیرملکی ہونیوالی Medical Conferences میں ڈاکٹرحضرات کوSponsor کرنا۔ اندرونِ ملک کانفرنس میں اخراجات ( جس میں ٹکٹ، رجسٹریشن اوررہائش شامل ہے)۔ تقریباً 30,000 روپے فی ڈاکٹرجبکہ غیرملکی کانفرنس میں ایک لاکھ سے تین لاکھ تک خرچہ آتاہے۔

6۔ Ward Services: گورنمنٹ ہسپتال مسلسل فنڈزکی کمی کاشکاررہتے ہیں۔ ان حالات میں میڈیکل وارڈزکی مرمت، رنگ وروغن، Patient Beds یاکسی بھی قسم کے آلات، کمپیوٹرزکی ضرورت پڑنے پرفارماکمپنیوں سے تقاضاکیاجاتاہے۔ جوکمپنیاں Co-operate کرتی ہیں، ان ہی کی دواؤں کولکھاجاتاہے۔ ڈاکٹرکاکہنایہاں یہ ہوتاہے کہ یہ اخراجات ہماری اپنی ذات پرنہیں کئے جارہے، ان سے مریضوں کابھلاہوتاہے۔

دوسال سے ہم نے ایک قدم تویہ اُٹھایاکہ اپنی تمام دوائیاں جن کی قیمتیں زیادہ تھیں، ان دواؤں کی قیمتوں کوجس حدتک ممکن تھا، کم کردیا۔ اس کے باوجودبھی ڈاکٹرزکے تقاضے اپنی جگہ پرہیں۔ ایسے میں شریعۃ کیارہنمائی کرتی ہے؟ کیاAcademic Service اورWard Service جائزہیں کہ ناجائز؟ اورکسی طریقے سے یاکس نیت کے ساتھ کی جائیں توشرعاً جائزقرارپائیں گی؟

مجھے اس بات کااحساس ہے کہ میری اردوتحریرضعیف ہے اوراس لئے میں گزارش کرونگاکہ خط پڑھنے کے بعدآپ ضرورکوئی ایساوقت طے کرلیں جس میں میں آپ سے مل کراورتفصیل سے ان Marketing Activities کی وضاحت کرسکوں۔


جواب:


سوال میں ذِکرکردہ Academic Service اورWard Service پرغورکرنے سے معلوم ہوتاہے کہ جس طرح ان کاتعلق ڈاکٹرزکی ذات سے ہے، اسی طرح یہ اقدامات مریضوں کے علاج میں بھی بہتری پیداکرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ جیسے میڈیکل کی درسی کتابوں (Text Books، بین الاقوامی جرائد، intenational Journals) کامطالعہ اورمیڈیکل کے حوالے سے ملکی وغیرملکی کانفرنسوں میں شرکت کہ ان سے استفادہ کرکے ڈاکٹرحضرات مریضوں کاعلاج زیادہ اچھے اندازمیں کرسکتے ہیں۔

اسی طرح Ward Service میں میڈیکل وارڈکے مطلوبہ سامان کی فراہمی علاج کوکامیاب بنانے میں بہت معاون ہے۔ اس کے علاوہ بعض مرتبہ میڈیکل وارڈکی مرمت وغیرہ کی بھی کسی حدتک واقعی ضرورت بنانے میں بہت معاون ہے۔ لہٰذااگرآپ ڈاکٹرحضرات کیلئے مذکورہ خدمات اس نیت سے سرانجام دیں کہ اس میں مریضوں کابھی فائدہ ہے توایساکرناجائزہے۔ البتہ اس میں درجِ ذیل شرائط کالحاظ رکھناضروری ہے۔

1۔ ان خدمات کی ادائیگی کابوجھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے مریضوں پرنہ ڈالاجائے بلکہ کمپنی کے حاصل شدہ منافع سے یہ خدمات سرانجام دی جائیں۔

2۔ ان خدمات کی ادائیگی کاخرچہ وصول کرنے کیلئے ادویات کے معیارمیں کمی نہ کی جائے۔

3۔ یہ خدمات سرانجام دیتے وقت یہ شرط نہ لگائی جائیں کہ ڈاکٹرحضرات ان خدمات کے بدلے اسی کمپنی کی ادویات لکھنے پرمجبورہونگے، بلکہ انہیں مکمل طورپرآزادی ہوکہ وہ جس دوائی کومریض کیلئے مفیدسمجھیں، وہ لکھ کردیں اورڈاکٹرحضرات بھی اس کی پابندی کریں کہ کسی دوسری کمپنی کی ادویات مریض کیلئے زیادہ مفیدسمجھتے ہوئے خاص اسی کمپنی کی ادویات تجویزنہ کریں۔

4۔ محض ان خدمات کے حصول کیلئے ڈاکٹراسی کمپنی کی غیرضروری، غیرمعیاری اورمہنگی ادویات تجویزنہ کریں، بلکہ اس کمپنی کی ادویات صرف اس وقت لکھیں جب ان کے فہم وتجربہ کی روشنی میں ادویات کااستعمال زیادہ مفیدہو۔ نیزبلاوجہ ضرورت سے زائدادویات لکھ کرنہ دی جائیں۔

ان شرائط کے علاوہ Ward Service کے سلسلے میں بہتریہ ہے کہ ڈاکٹرکے کسی مطالبے کے بغیرکمپنی کے افرادخودجاکروارڈکامعائنہ کریں اورپھراس کے لئے مناسب خدمات سرانجام دیں۔ واضح ہوکہ یہ ساری تفصیلات Academic Services اورWard Service کے متعلق ہیں۔ جہاں تک ذاتی خدمات (Personal Services) کاتعلق ہے، توڈاکٹرحضرات کی طرف سے ان کاتقاضاکرناکسی طرح جائزنہیں اوران کے تقاضے کی وجہ سے میڈیکل کمپنی کیلئے بھی ان کومذکورہ خدمات مہیاکرناجائزنہیں۔ اس سے بچنالازم اورضروری ہے، کیونکہ یہ رشوت میں داخل ہے، جس کالینادیناحرام ہے۔

لیکن اگرڈاکٹرحضرات کی طرف سے کسی بھی قسم کے (صراحتاً یااشارتاً) تقاضے بغیرکمپنی اپنی طرف سے کوئی خدمت کردے اوراس میں درجِ بالاتمام شرائط پائی جاتی ہیں تواس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، لیکن آج کل Personal Service کے معاملات میں ان شرائط کی پابندی کرنابہت ہی مشکل ہوتاہے، اس لئے ان خدمات کے سرانجام دینے سے بچنابہرحال بہترہے۔ ……


حوالہ:

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com