Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

سوال:

زید نے دوائیوں کے متعلق کورس پاس کیا ہےاور ڈپلومہ لیا ہے اور حکومت کی طرف سے ڈپلومہ رکھنے والے شخص کو میڈیکل سٹور کھولنے اور دوائیں فروخت کرنے کا اجازت نامہ ملتا ہے۔زید اس اجازت نامے سے حود فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ کسی دوسرے شخص کو یہ اجازت نامہ دے دیتا ہے۔اس کے بدلے یک مشت یا ماہانہ ایک رقم وصول کرتا ہے۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ کہ زید کیلئے یہ دوائیں فروخت کرنے کا لائسنس فروخت کرنا اور اس کے عوض یک مشت یا ماہانہ رقم وصول کرنا۔


 الجواب حامد او مصلیا:

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ اجازت نامہ دوسرے کو فروخت کرنا قانوناً ممنوع ہو (جیسا کہ ظاہر یہی ہے کیونکہ اجازت نامہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص اس کام کا اہل ہے ، غلط دوا نہیں دیگا) تو زید کے لئے اسے آگے فروخت کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ عمل خلاف قانون ہونے کے علاوہ اس میں جھوٹ اور دھوکہ لازم آتا ہے ، جو شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے، اور اسپر جو رقم یکمشت یا ماہانہ رقم لے رہا ہے وہ بھی جائز نہیں ہے۔


 حوالہ:

فی بحوث فی قضا یا فقھیۃ معاصرہ  ۔ (۱۔۱۲۰)
ولکن کل ذالک انما یاتی اذا کان فی الحکومۃ قانون یسمح بنقل ھذہالرخصہ الی رجل آخر، اما اذا کانت الرخصۃ باسم رجل مخصوص او شرکۃ مخصوصۃ، ولا یسمح القانون بنقلھا الی رجل آحر اوشرکۃ اخری، فلا شبھۃ فی عدم جواز بیعھا، لان بیعہ یودی حینئذ الی الکذب والخدیعۃ ۔۔۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com