Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

سوال:

ہم ایلوپیتھک دوائی استعمال کراتے ہیں ہمیں اِن کا ماخذ (Source)معلوم نہیں ہوتا کہ وہ حلال ہے یا حرام ہمیں کیا کرنا چاہیے؟


 الجواب حامد او مصلیا:

دارالافتاء سے شرعی مسائل بیان کیے جاتے ہیں ،ادویات کے ماخذ نہیں بیان کیے جاتے ، تاہم ایلوپیتھک ادویات کے بارے شرعی حکم یہ ہے کہ جس دوائی کے اجزاء (ماخذ)کے بارے میں یقین یا ظن غالب ہو کہ یہ حلال اور جائز ہے ، یا اُس دوا ء میں حرام یا ناپاک اجزاء شامل ہونا ظن غالب سے ثابت نہ ہو تو چونکہ گوشت کے علاوہ باقی چیزوں میں اصل اباحت ہے، اس وجہ سے ایسی دوائی استعمال کرنا جائز ہے، البتہ اگر کسی دوائی کے بارے میں یقین یا ظن غالب سے یہ معلوم ہو جائے کہ اس میں حرام اجزاء شامل ہیں (اور کسی کیمیائی عمل سے اس کی ماہیت تبدیل بھی نہ ہوئی ہو) تو ایسی دوائی استعمال کرناناجائز ہے۔


 حوالہ:

صحیح مسلم ۔ عبدالباقی ۔( 1219/3)
عن النعمان بن بشیر قال سمعتہ یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول وأھوی النعمان باصبعیہ الی آذنیہ *ان الحلال بین وان الحرام بین و بینھما مشتبھات لا یعلمھن کثیر مین الناس فمن اتقی الشبھات استبرآلدینہ وعرضہ ومن وقع فی الشبھات وقع فی الحرام کالراعی یرعی حول الحمی یوشک أن یرتع فیہ۔
البحر الرائق، دارلکتاب الاسلامی ۔( 83/1)
والنجاسات لا محالۃ من الخبائث فحرمھا اللہ تحریما مبھما ولم یفرق بین حال اختلاطھا وانفرادھا بالماء فوجب تحریم استعمال کل ما تیقنا بہ جزءًا من النجاسۃ، وتکون جھۃ الحظر من طریق النجاسۃ اولی من جھۃ الاباحۃ؛لان الاصل انہ اذا اجتمع المحرم والمبیح قدم المحرم وایضًا لا تعلم بین الفقھاء فی سائر المائعات اذا خالطہ الیسیر من النجاسۃ کالبن والاذھان أن حکم الیسیر فی ذلک کحکم الکثیر وأنہ محظور علیہ أکل ذلک وشربہ فکذا الماء بجامع لزوم اجتناب النجاسات، ویدل علیہ من السنۃ قولہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ >>لا یبولن أحدکم فی الماء الدائم ثم یغتسل فیہ من الجنابۃ<<وفی لفظٍ اآخر >>ولاتغسلن فیہ من جنابۃ<<ومعلوم أن البول القلیل وفی الماء الکثیر لا یغیر لونہ ولا طعمہ ولا رائحتہ وقد منع منہ النبی۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔
الأشباہ والنظائر ۔ حنفی ۔ ( 87/1)
وفی شرح المنار للمصنف:  الأصل فی الأشیاء الاباحۃ عند بعض النفیۃ و منھم الکرخی و قال بعض أصحاب الدحدیث: الأصل فیھا الحظر وقال أصحابنا: الأصل فیطا التوقف بمعنی أنہ لا بدلھا من حکم لکننا لم نقف علیہ الفعل انتھی وفی الھدایۃلامن فصل الدادۃ أن الاباحۃ أصل انتھی۔۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com