Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

سوال:

جو ڈاکٹر اچھی کمپنی کی سستی دوائی ہونے کے باوجود کم اچھی کمپنی کی مہنگی دوائی مریض کو لکھ دیتا ہے ۔ صرف کمپنی سے مالی فائدہ اٹھانے کیلئے ۔ کیا ایسے ڈاکٹر کی آمدنی حلال ہے ، کیا اس کے گھرسے کھانا جائز ہے؟


 الجواب حامد او مصلیا:

(۱)۔۔۔اگر کوئی ڈاکٹر بہتر کمپنی کی سستی دوائی چھوڑ کر کمتر درجہ کی مہنگی دوائی مریض کو لکھ دیتا ہے اور ڈاکٹر کا علم یا تجربہ کہتا ہے کہ اس طرح کرنا مریض کے لیے مفید ہوگا، اور اس سے مریض کی زیادہ فائدہ ہونے کا امکان ہے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور یہ طریقہ شرعاً جائز ہوگا۔
لیکن اگر کم بہتر کمپنی کی مہنگی دوائی لکھنے کا مقصد یہ ہو کہ کمپنی سے دوائی لکھنے کی رقم حاصل کی جائے ، چاہے اس کے کچھ بھی اثرات مریض پر مرتب ہوں تو اس طرح کرنا چونکہ کئی مفاسد پر مشتمل ہے ، اس لیے ڈاکٹر کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے، اور یہ رقم رشوت کے زمرے میں آتی ہے، جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔


 حوالہ:

رد المحتار373/5)):  تحت مطلب فی ہدتۃ القاضی
والأولی فی حقھم ان کانت الھدیۃ، لأجل ما یحصل مھم من الافتاء والوعظ و التعلیم عدم القبول لیکون علمھم خالصا للّٰہ تعالی، وان أھدی الیھم تجبا و توددا لعلمھم و صلاحھم فالأولی القبول وأما اذا أخذ المفتی الھدیۃ لیرخص فی الفتوی فان کان بوجہ باطل فھورجل فاجر یبدل أحکام اللہ تعالی، ویشتری بھا ثمنا قلیلا، وان کان بوجہ صحیح فھو مکروہ کراہۃ شدیدۃ۔
و فیہ أیضا  362/5)):
الرشوۃ أربعۃ أقسام: منھا ما ھو حرام علی الآخذ والمعطی و ھو الرشوۃ علی تقلید القضائ والا مارۃ.الثانی: ارتشائ القاضی لیحکم و ھو کذلک ولو القضاء  بحق;لأنہ واجب علیہ ۔ ۔۔واللہ تعالیٰ آعلم بالصّواب


Fatwa No. fno53.1571-29.10.2013

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com