Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال

کیااہلِ کتاب لڑکی سے نکاح جائزہے؟


جواب:

اگرچہ کسی اہلِ کتاب لڑکی سے نکاح اس شرط کے ساتھ جائزہے کہ وہ واقعۃً اللہ تعالیٰ کے وجود، کسی آسمانی کتاب اوراس مذہب کے نبی پرایمان رکھتی ہے (محض نام کی یہودی، عیسائی ہوناکافی نہیں) مگرشدیدمجبوری کے بغیرکسی اہلِ کتاب لڑکی سے نکاح نہ کرناچاہئے اس لئے کہ یہ بے شمارخرابیوں کاباعث ہے۔ حضرت عمرفاروقؓ نے اپنے زمانے میں مسلمانوں کواہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کرنے سے منع فرمایاتھا، حالانکہ حضرت عمرفاروقؓ کازمانہ خیرکازمانہ تھا، توآج اس فتنے کے زمانہ میں جبکہ خودمسلمانوں کے ایمان واعمال میں کمزوری آگئی ہے، کسی اہلِ کتاب عورت سے نکاح کے بعدبچوں کے اس سے متاثرنہ ہونے اوردینی تربیت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذامسلمان کیلئے اہلِ کتاب لڑکی سے نکاح نہ کرناہی بہترہے۔ (مأخذرجسٹرنقل فتاویٰ دارالعلوم کراچی)


حوالہ:


Fatwa No. fno53.308

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com