Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال

کوئی عورت مردڈاکٹرسے دانت نکلواسکتی ہے یادانتوں کاکوئی اورکام کرواسکتی ہے۔


جواب:

اگرماہرلیڈی ڈاکٹرہوتولیڈی ڈاکٹرہی سے علاج لازم ہے کسی اجنبی مردڈاکٹرسے علاج کرواناجائزنہیں، اوراگرلیڈی ڈاکٹرمیسرنہ ہویاہولیکن اس سے اطمینان بخش علاج نہ ہوسکتاہواورعلاج بھی ناگزیرہوتوپھرعورت، مردڈاکٹرسے علاج کرواسکتی ہے اوردانت نکلواسکتی ہے۔ اس صورت میں عورت پرلازم ہے کہ چہرے کابقدرضرورت حصہ کھولے باقی نہ کھولے اورمردپرلازم ہے کہ جہاں تک ہوسکے ضروری حصہ پرنظررکھے دیگرحصے اوراعضاء پرنظرنہ ڈالے اورنہ چھوئے۔

اورجہاں تک مردکاکسی لیڈی ڈاکٹرسے علاج کروانے کاتعلق ہے توعام طورپرماہرمردڈاکٹربآسانی مل جاتے ہیں لہٰذامردڈاکٹرہی سے علاج لازم ہے، البتہ اگرکہیں ایسی شدیدمجبوری آجائے کہ لیڈی ڈاکٹرکے علاوہ کوئی اورڈاکٹرموجودنہ ہوتوایسی مجبوری کی صورت میں مردلیڈی ڈاکٹرسے علاج کرواسکتاہے۔ (مأخذہ رجسٹرنقل فتاویٰ ۱۲۹/۹۰،۷۱/۲۰۵/۱۷۳،۸/۲۵۸


حوالہ:

فی الدرالمختار(۳۷۰/۶،۷۱) ینظرالطبیب الٰی موضع مرضہابقدرالضرورۃ اذالضرورات تتقدربقدرہاوکذانظرقابلۃ وختان ینبغی أن یعلم امراۃ تداویہالأن نظرالجنس الی الجنس أخف۔

فی أیضا(ج۳۷۱/۶) (وکذا) تنظرالمرأۃ (من الرجل) کنظرالرجل (وان امنت شہوتہا) فلولم تأمن اوخافت أوشکت حرم استحساناکالرجل ہوالصحیح فی الفصلین۔


Fatwa No. fno2.422

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com