Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال

کیالڑکیوں کیلئے نرسنگ کے شعبہ کواختیارکرناجائزہے؟

کیانرس نامحرم مردکودوائی دے سکتی ہے؟


جواب:

خاتون نرس کانامحرم مریض کودوادینایاانجکشن لگانابلاضرورت جائزنہیں، لیکن اگرشدیدمجبوری ہوتوشرعی پردے کے اہتمام کے ساتھ اس کی گنجائش ہے۔ اسی طرح خواتین کانرسنگ کی تعلیم حاصل کرنااوراس شعبہ کواختیارکرنااگراس غرض سے ہوکہ ان علوم کوعورتوں کی خدمت کیلئے استعمال کریں گی، توان علوم کی تحصیل اورنرسنگ کے شعبہ کواختیارکرنے میں فی نفسہٖ کوئی کراہت نہیں، بشرطیکہ ان علوم کی تحصیل میں اورتحصیل کے بعدان کے استعمال میں درجِ ذیل شرائط کالحاظ رکھاجائے۔

(۱) خواتین کی تعلیم گاہیں اوراسکول، کالج صرف خواتین کیلئے مخصوص ہوں، مخلوط تعلیم نہ ہوکہ اورمردوں کاتعلیم گاہوں میں آناجانااورعمل دخل نہ ہو۔

(۲) ان تعلیم گاہوں تک خواتین کے آنے جانے کاشرعی پردے کے ساتھ ایسامحفوظ انتظام ہوکہ کسی مرحلہ پربھی فتنہ کااندیشہ نہ ہو۔

(۳) تعلیم وتربیت کیلئے نیک کرداراورپاک دامن خواتین استانیاں ہوں، اگراستانیاں نہ مل سکیں تومجبوراً نیک اورصالح قابلِ اعتمادمردوں کومتعین کیاجائے اوران کی کڑی نگرانی کی جائے۔ (مأخوذازتویب /۲۵۷۶ ۳۹ ح، ۲۶۶/۹،۸۵٭۱۳۲ج)

چونکہ آج کل مذکورہ شرائط موجودہ تعلیمی نظام میں عام طورپرمفقودہوتی ہیں، لہٰذانرسنگ کے شعبہ کواختیارکرنااورتعلیم مذکورہ بالاشرائط کے بغیرحاصل کرنے سے بچنالازم ہے۔


حوالہ:


Fatwa No. fno27.426

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com