Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال:

ایک شخص کوہومیوپیتھک کی پریکٹس کی اجازت ہے اوراس کوحکومت کی طرف سے ایلوپیتھک کی پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن یہ شخص ہومیوپیتھک کی سندکی آڑمیں ایلوپیتھی کی پریکٹس بھی کرتاہے کیااس کایہ فعل جائزہے۔
بہت سے لوگوں کوحکومت کی طرف سے پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن یہ لوگ ڈاکٹری کی پریکٹس کرتے ہیں کیااس کافعل جائزہے اوراس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے


جواب:

(35,36) بغیرسندکے پریکٹس کرنایاہومیوپیتھک کی سندپرایلوپیتھی کی پریکٹس کرناجائزنہیں اس لئے کہ ان دونوں صورتوں میں قانون کی خلاف ورزی لازم آتی ہے جوناجائزہے، البتہ اگرکوئی ایلوپیتھی یاکسی دوسرے طریقہ سے علاج کرناصحیح طورسے جانتاہواس کے مطابق واقعۃً صحیح علاج کرتاہوتوایسے علاج سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہے لیکن قانون کی خلاف ورزی کاگناہ پھربھی ہوگاجس سے اس کوبچناچاہئے اوراگروہ صحیح طورسے علاج کرناہی نہیں جانتااوراس کے مطابق صحیح علاج نہیں کرتاتواس کی آمدنی حلال نہ ہوگی اورقانون کی خلاف ورزی کے گناہ کے علاوہ لوگوں کوڈاکٹرہونے کادھوکہ دینے یاکام میں کوتاہی رہنے کاگناہ بھی ہوگاجس سے اس کوبچنالازم ہے (ماخذہ تبویب ۱۰۳/۱۰۰و۴۲۶/۷۵)


حوالہ:

فی الدرالمختاربل یمنع مفت ماجن یعلم الحیل الباطلۃ کتعلیم الردۃ لتبین من زوجہاولتسقط عنہاالزکاۃ وطبیب جاہل۔

وفی ردالمختار: بان یسقیم دواء مہلکاواذاقوی علیہم لایقدرعلی ازالۃ ضررہ (۱۴۷/۲) واللّٰہ اعلم۔


Fatwa No. fno428.67

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com