Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال:

ایک مسئلہ ذہن میں آیاجس کے متعلق علمائے کرام سے پوچھناچاہتاہوں۔

عیسائیوں نے اپنے دین کی تبلیغ کے لئے پوری دنیامیں فلاحی اداروں کاایک جال بنایاہواہے ان اداروں میں اوراسی طرح کے ادارے مثلاً این جی او، فلاحی ہسپتال، ڈسپنسریاں، سکول وکالج وغیرہ شامل ہیں۔ ان اداروں کااصل مقصداپنے دین کافروغ ہے۔ ان اداروں کوفنڈوغیرہ بھی بیرونی ممالک سے ہی ملتاہے۔

سوال نمبر33۔ کیا؟ ان اداروں میں ایک ڈاکٹرکی حیثیت سے کام کرناجائزہے؟


جواب:

جواب: اگرکوئی شخص ان اداروں میں بحیثیت ڈاکٹرملازمت کرتاہے اوراس کاکام صرف مریضوں کاعلاج کرناہے تواس کی یہ ملازمت فی نفسہٖ جائزہے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے لیکن اگریہ ادارہ والے اپنے ہسپتال میں بلاواسطہ طورپرعیسائیت کی تبلیغ کرتے ہیں اس صورت میں مذکورہ ڈاکٹرکیلئے یہاں ملازمت کرنابہترنہیں ہے کیونکہ اس میں ایک طرح سے ان سے تعاون ہے اسے چاہئے کہ دوسری مناسب ملازمت تلاش کرے اورجیسے ہی کوئی مناسب ملازمت مل جائے تویہ ملازمت چھوڑدے۔


حوالہ:


Fatwa No. fno463.33

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com