Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال:

کیاڈاکٹرمشورہ فیس لے سکتاہے؟


جواب:

اگرڈاکٹرمستندہے یعنی فنِ علاج سے باخبربھی ہے اورکسی مستندطبیب یاادارہ نے اسے علاج کرنے کی اجازت واہل قراردیدیاہے تواس کیلئے علاج کرنااورمشورہ دے کرفیس لیناجائزہے۔ لیکن یہ فیس مریض کی مالی حالت کومدِّ نظررکھ کرلینی چاہئے۔ مرتب حضرت مفتی اعظم پاکستان حضرتِ اقدس حضرت مولانامفتی محمدشفیع صاحب نوراللہ مرقدہ نے ’’امدادالمفتیین ص ۹۷۶‘‘ میں تحریرفرمایا: ’’یہ حکیم کی اجرت، جاننے اورتشخیصِ مرض اورتجویزِ نسخہ کی ہے۔ اس میں کسی قسم کی کراہت نہیں ہے۔ بلاشبہ جائزہے بشرطیکہ حکیم حکیم ہویعنی کسی حاذق طبیب نے اس کوعلاج کرنے کی اجازت دی ہو، ورنہ معالجہ کرناجائزنہیں‘‘


حوالہ:


Fatwa No. fno17.448

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com