Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

سوال:

کیا ایسا شخص جس کو پیشاب والی نالی ڈلی ہوئی ہے اور اس کا پیشاب Bagمیں اکٹھا ہوتا رہتا ہے ۔ کیا ایسا شخص Urin Bagکے ساتھ مسجد میں آسکتا ہے؟


الجواب حامد او مصلیا:

شخصِ مذکور درج ذیل شرائط کے ساتھ مسجد میں آسکتا ہے:

۱۔  آنے سے پہلے تھیلی(Bag)کو اچھی طرح صاف کر کے یا اگر ممکن ہو تو تبدیل کر کے آئے۔
۲۔  تھیلی اچھی طرح بند اور محفوظ ہو کہ اس سے مسجد کے ناپاک ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
۳۔  تھیلی کو چھپا کر آئے
۴۔  اس سے بدبو بالکل نہ آتی ہو۔ اور اگر ان شرائط پر عمل نہ ہوسکے تو پھر ایسا شخص مسجد میں نہ آئے بلکہ عذر کی بنا پر گھر میں نماز پڑھ لے۔ (ماخذہ التبویب بنعییر،۱۳۲۷/۵۰)


حوالہ:

حاشیۃ ابن عابدین (۱/۶۵۶):
قولہ (وادخال نجاسۃ فیہ) عبارۃ الأشباہ وادخال نجاسۃ فیہ یخاف مھا التلویث

المجموع شرح المھذب (۲/۱۴۵):
فأما من علی بدنہ نجاسۃ أو بہ جرح فان خاف تلویث المسجد حرم علیہ دخولہ و ان أمن لم یحرم و دلیل ھذہ المسائل حدیث أنس رضی اللہ  عنہ أن رسول اللّٰہ ﷺ قال (ان ھذہ المساجد لا تصلح لشئی من ھذا البول ولا القدر انما ھي لذکر اللّٰہ و قراء ۃ القرآن)
عمدۃ القاريشرح صحیح البخاری (۹/۴۵۳، بترقیم الشاملۃ آلیا):
أن النبي قال من أکل ثوما أو بصلا فلیعتزلنا أو قال فلیعتزل مسجدنا
ولیقعد في بیتۃ

تحفۃ الأحوذي (۵/۴۲۸):
ثم ان النھي انما ھو عن حضور المسجد لا عن أکل الثوم و البصل و نحوھما
ویلحق بالثوم۔۔ کل مالہ رائحۃ کریھۃ من المأ کولات و غیرھا۔۔۔ أو بہ جرح لہ رائحۃ ۔ واللہ اعلم بالصواب


Fatwa No. fno33.1534-15.05.2013

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com