Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

 سوال:

ایک شخص دمہ کا مریض ہے دوران نماز اسکو دمہ کا اٹیک ہو جاتا ہے تو کیا وہ جیب سے اپنا انہیلر نکال کر اس کے دو یا چار پف لے سکتا ہے؟ تاکہ اس کا سانس بحال ہو سکے۔
کیا اس کے اس عمل سے نماز تو نہیں ٹوٹے گی؟
کیا نماز میں ایسا کرنا صحیح ہے؟


 الجواب حامد او مصلیا:

اگر انہیلر کو ایک ہاتھ کے ذریعہ جیب سے نکال کر بقدر ضرورت اس طرح پف لیا جائے کہ عمل کثیر کی نوبت نہ آئے تو اس کی گنجائش ہے، اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔
اور عمل کثیر کی تعریف راجح قول کے مطابق یہ ہے کہ نمازی کا نماز میں ایسا کام کرنا کہ سامنے سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے۔


 حوالہ:

البحر الرائق، دارالکتاب الاسلامی ۔ (12/2)
واتفقوا علی أن الکثیر مفسد والقلیل لا لامکان الاحتراز عن الکثیر دون القلیل فان فی الحی حرکات من الطبع ولیست من الصلاۃ فلو اعتبر العمل مفسدا مطلقا لزم الحرج فی اقامۃ صحتھاو ھو مدفوع بالنص تم اختلفو فیما بین الکثرۃ والقلۃ علی أقوال آحدھا ما اختارہ العامۃ کما فی الخلاصۃ والخانیۃ أن کل عمل لا یشک الناظر أنہ لیس فی الصلاۃ فھو کثیر وکل عمل یشتبہ علی الناظر أن عاملہ فی الصلاۃ فھو قلیل قال فی البدائع و ھذا أصح و تابعہ اشارح والولوالجی وقال فی المحیط انہ الأحسن وقال الصدر الشھید انہ الصواب۔
الدر المختار ۔ (624/1)
(و)تفسد ھا (کل عمل کثیر) لیس من ٖأعمالھا ولا لاصلاحھا، وفیہ أقوال خمسۃ أصحھا (مالا یشک)بسببۃ (الناظر) من بعید (فی فاعلہ أنہ لیس فیھا) وان شک أنہ فیھا أم لا فقلیل،
حاشیۃ ابن عابدین (رد المحتار) ۔  (624/1)
قولہ لیس من أعمالھا) احتراز عمالو زاد رکوعا أو سجودا مثلا فانہ عمل کثیر غیر مفسد لکونہ منھا غیر أنہ یرفض لأن ھذا سبیل ما دون الرکعۃ ط قلت : والظاھر الاستغناء عن ھذا القید علی تعریف العمل الکثیر بما ذکرہ المصنف تأمل (قولہ ولا  لاصلاحھا)خرج بہ الوضوء والمشی لسبق الحدث فانھما لا یفسدانھا ط۔ قلت: و ینبغی أن یزاد ولا فعل لعذر احترازا عن قتل الحیۃ أو العقرب یعمل کثیر علی أحدالقولین کما یأتی، الا أن تقال انہ لا صلاحھا لأن ترکہ قد یؤدی الی افسادھا تأمل (قولہ وفیہ أقوال خمسۃ أصحھا مالا یشک الخ) صححہ فی البدائع ، وتابعہ الرزیلعی والولوالجی، و فی المحیط أنہ الأحسن۔ وقال الصدر الشھید: انہ الصواب۔ وفی الخانیۃ والخلاصۃ: انہ اختیار العامۃ۔ وقال فی المحیط وغیرہ: رواہ الثلجی عن أصحابنا حلیۃ۔
الفتاوی الھندیۃ  ۔  (101/1)
الکثیر یفسد الصلاۃ والقلیل لا۔ کذا فی محیط السرخسی۔


Fatwa No. fno45.1586-2013

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com