Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

 سوال:

کیا حجامہ کرانا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے کن موقعوں اور جگہوں پر حجامہ لگوایا اور حجامہ لگانے کا سنت طریقہ کیا ہے؟


 الجواب حامد او مصلیا:

حجامہ کرانا ایک طریقہ علاج ہے اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے علاج کرانا جائز ہے۔ رسول کریم ﷺ نے بھی حجامہ کرایا ہے۔ لہذا جس کو حجامہ کرانے کا تحمل ہو ، اس کے لیے حجامہ کرانا جائز ہے اور اتباع سنت کی نیت ہو تو ثواب بھی ملے گا۔ لیکن اس کو اس معنی میں سنت سمجھنا کہ کرنے میں ثواب اور نہ کرنے میں گناہ ہوگا، صحیح نہیں۔


 حوالہ:

مرقاۃ الفاتیح ۔ (۸/۲۹۵)
عن أنس ؓ رضی اللہ تعالی عنہ قال، قال رسول اللہ ﷺ: ’’ان أمثل ماتداویتم بہ الحجامۃوالقسط البحری‘‘ متفق علیہ۔
(أمثل ما تداویتم بہ) أی: أفضلہ وأنفعہ راولاہ۔
الھندیہ (۵/۴۰۹)
الاشتغال بلتداوی لا بأس بہ اذا اعتقد أن الشافی ھواللہ وأنہ جعل الدواء سببا۔أما اذا اعتقدأن الشافی ھوالدواء فلا، کذافی السراجیۃ۔
الدرالمختار (۱/۲۳۰)
وسننہ۔
قال فی ردالمحتار:۔
والسنۃ نوعان: سنتہ الھدی وترکھا یو جب أساۃ وکراھیۃ کالجماعۃ ۔۔۔۔
وسنۃ الزاوئد وترکھا لا یوجب ذلک، کسیرالنبی ﷺ فی لباسہ و قیامہ و قعودہ۔
-2  مختلف روایات میں رسول اللہ ﷺ سے کئی جگہوں پر حجامہ کرانے کا ذکر ہے: زہر کے اثر کی وجہ سے سرکے درمیانی حصے میں اور دونوں کندھوں کے درمیان۔ نیز حدیث میں سر کے درد کے لئے بھی حجامہ کرانے کا ذکر ہے۔
مرقاۃ المفاتیح (۸/۳۱۴)
عن أنس ؓ رضی اللہ تعالی عنہ قال، کان رسول اللہ ﷺ:یتحجہ فی الأخد عین والکاھل۔
وفیہ ایضا (۸/۳۱۱)
عن مسلمۃ خادمۃ النبی ﷺ قالت: ماکان أ حدیشتکی ء الی رسول اللہ ﷺ وجعا فی رأسہ ء الاقال: ’’احتجمہ‘‘ولاوجعفی رجلیہ الاقال: احتضبھما‘‘ رواہ ابودائود۔

وفیہ ایضا (۸/۳۱۲)
-3  حجامہ کرانا چونکہ مقصودی عبادت نہیں ہے، اسلئے ہرایسا طریقہ درست ہے جس کے ذریعے بدن کے ظاہری حصے سے فاسد خون کا خراج ہو ، اور جسم کے لیے مفید ہو۔
(نوٹ) جحامہ کرانا مطلقاََ ہر جگہ مفید نہیں ، بلکہ انسانی مزاج اور موسم کے فرق سے اس کا اثر مختلف ہو سکتا ہے ۔
مرقاۃ المفاتیح (۸/۳۱۲)
(من ھذہ الدماء) أي: بعض ھذہ الدمائالمجتمعۃ فی المحسوس أثار۔
علی البشرۃ، وھوالمقدار الفاسد معروف بحلامۃ یعلمھاأھلھا۔
وفیہ ایضا (۸/۲۹۰)
(فی شرطۃ مجہم) بکسرالمیم وفتح جحیم و ھی الألۃالتی یجتمع فیھاالدم عند۔۔۔
المص ویرادبہ ھنا الحدیدۃ التی بشرط بھا موضع الحجامۃ والشرطۃ فعلۃ من شرط الحجماجم بشرط اذا نزع و ھوالضرب علی موضع الحجامۃ لیخرج الدم منہ کذازکرالطیبی۔۔ واللہ تعالی أعلم بالصواب

 


Fatwa No. fno70.1513-02.03.2013

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com