Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

Fatwa No. fno85.1511-2013

View Original Fatwa | Download Original Fatwa


 سوال:

کیا کوئی شخص اپنے بچوں کی ویکسین نہیں کرواتا تو کیا وہ عنداللہ مجرم ہے؟ اگر وہ اپنا علاج نہیں کرواتا یا بچوں کی ویکسین نہیں کرواتا تو دوسرے بہت سے لوگوں کا اس مرض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے کیا شرعی نقطہ نگاہ سے اس کو بچوں کی ویکسین کرانے پر اورعلاج کرانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے؟


الجواب حامد او مصلیا:

واضح رہے ذکر کردہ علاج کروانا شرعاََ ایسا حکم نہیں ہے کہ اس کے چھوڑنے کیوجہ سے بندہ گناہ گار ہو، اس لیے شخص مذکور اپنے بچوں کی ویکسین نہیں کرواتا یا اپنا علاج نہیں کرواتا تو نہ اس کو شرعاََ مجبور کیا جا سکتا ہے اور نہ وہ عنداللہ مجرم ہوگا، البتہ نابالغ بچوں کی صحت و حفاظت کیلئے معروف جائز تدابیر اختیار کرنا والدین کے ذمہ شرعاََ لازم ہے۔


 حوالہ:

الفتاوی الھندیۃ -  (۵/۳۵۵)
والرجل اذا استظلق بطنہ أو رمدت عیناہ فلم یعالج حتی أضعفہ ذلک وأضناہ ومات۔ منہ لا اثم علیہ فرق بین ھذا وبینما اذا جاع ولم یأکل مع القدرۃ حتی مات حیث اثم والفرق أن الأکل مقدار قوتہ مشبع بیقین فکان ترکہ اھلاکا ولا کذلک المعالجۃ والتداوي کذافي الظھیریۃ۔
الدر المختار و حاشیۃ ابن عابدین (رد المختار) ۔ (۶/۳۸۹)
و حاصل المعنی حینئد: أن اللہ تعالی أذن لم بالتداوي، و جعل لکل داء دواء، فائذا کان في ذلک الدواء شيء محرم و لمتم بہ الشفاء، فقد زالت حرمۃ استعمالہ لأنہ تعالی لم یجعل شفائکم فیما حرم لیکم (قولہ دل علیۃ الخ)أقول: فیہ نظر لأن اساغۃ اللقمۃ بالخمر و شریہ لازالۃ العطش احیاء لنفسہ متحقق النفع، ولذایأثم بترکہ کما یأثم بترک ال۔اکل مع القدرۃ علیہ حتی، یموت بخلاف التداوي ولو بغیر محرم فاء نہ لو ترکہ حتی مات لا یأثم کما نصوا علیہ لأنہ مظنون کما قدمناہ تامل (قولہ و قد قدمناہ)أي أول الحظر والا باحۃ حیث قال الأکل لغذاء والشرب للعطش ولو من حرام أو میتۃ أو مال غیر وان ضمنہ فرض۔
المحیط البرھاني في الفقہ النعماني ۔ (۵/۳۷۲)
ذکر محمد رحمہ اللہ في >>السیر<<في بات دواء الجراحۃ عن أبي أمامۃ: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داوی وجھہ بعظم بال في الحدیث دلیل علی أنہ لاٰبأس بالتداوي، وبہ نقول ومن الناس من کرہ ذلک، ویروي آثاراََ تدل علی کراھیتہ، ونحن نستدل بما روینا، وبقولہ علیہ السلام: >>تداووا عباد اللہ، فان اللہ تعالی لم یخلق دائََ الا وقد خلق لہ دوائََ الا السام والھرم<<ولکن ینبغيلمن یشتغل بالتداوي أن یری السشفاء من اللہ لا من الدواء، ویعتقد أن الشافي ھواللہ دو الدواء۔

بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع ۔ (۵/۱۲۷)
ولا باس بالحقنۃ لانھا من باب التداوي وانہ امر مندوب الیہ قال النبی ۔ علیہ الصلاۃ والسلام۔۔>>تداووا فان اللہ تعالی لم تخلق داء الا وقد خلق لہ دواء الا السام والھرم<< ۔۔۔ واللّہ سبحانہ و تعالی اعلم بالصواب


comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com