Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

 سوال:

   کیا کوئی مریض شراب کی تھوڑی مقدار کو دواء کے طور پر استعمال کر سکتا ہے؟

مثلاََ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کھانسی کیلئے شراب تھوڑی سی مقدار پی لو کھانسی ٹھیک ہو جائے گی۔


الجواب حامداََ و مصلیا:

چونکہ کھانسی کے لئے شراب کے علاوہ بہت سے علاج کے جائز طریقے میسر ہیں، اسوجہ سے تھوڑی سی شراب کو بھی کھانسی کے علاج کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں ، حرام ہے۔


حوالہ:

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ )۔(المائدۃ 90)

الجمع بین الصحیحین البخاری و مسلم۔(403 / 3)

الخامس من روایۃ لقمۃ بن وائل عن أبیہ أن طارق بن سوید الجعفی سأل النبی }صلی اللّہ علیہ وسلم{عن الخمر فن

ھاہ اوکرہ أن بصنعھا فقال انما أصنعھا للدواء فقال انہ لیس بدواء ولکنہ دا۔

شرح النووی علی مسلم۔  (212 / 2)

وأما الخمر فانھا أم الخبائث وجالبۃ لأنواع من الشرفی الحال و المآل

الدر المختار۔(210 / 1)

اختلف في التداوي بالمحرم وظاہر المذھب المنع کما فی رضاع البحر لکن نقل الصنف ثمۃ وھنا عن الحاوی و قیل یرحض اذا علم فیہ الشفاء ولم یعلم دواء آخرکما رخص الخمر للعطشان و علیہ الفتوی

بدائع الصنائع۔(113 / 5)

و قال علیہ الصلاۃ والسلام حرمت الخمر لعینھا قلیلھاوکثیرھا والشکر من کل شراب الا انہ رخص شربھا عند شرورہ(((ضرورۃ))) العطش أولاکراہ قدر ما تندفع بہ الضرورۃ ۔۔۔ واللّہ اعلم بالصواب

 


Fatwa No. fno34.1511-21.02.2013

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com