Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

سوال:

    کیا کوئی ڈاکٹر مریض کو شرعی ایڈوائس دے سکتا ہے؟
    مثلاََ آپ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھیں یا روزہ نہ رکھیں وغیرہ۔


الجواب حامد او مصلیا:

شرعی احکام کو جاننا اور فنِ طب کا علم یہ دونوں الگ الگ مستقل علم ہیں ،اور شریعت نے بعض احکام میں طبیب حاذق کی رائے کو معتبر قرار دیا ہے ،جیسا کہ ’’ بہشتی زیور‘‘میں ہے کہ ’’ اگر ایسی بیماری ہے کہ روزہ نقصان کر تا ہے، اور یہ ڈر ہے کہ اگر روزہ رکھے گی تو بیماری بڑھ جائے گی یا دیر میں اچھائی ہوگی یا جان جاتی رہے گی تو روزہ نہ رکھے ، جب اچھی ہو جاوے گی تو اس کی قضاء رکھ لے ، لیکن فقط اپنے دل سے ایسا خیال کر لینے سے روزہ چھوڑ دینا درست نہیں، بلکہ جب کوئی مسلمان دیندار طبیب کہہ دے کہ روزہ تم کو نقصان کرے گا تب چھوڑنا چاہیے ‘‘
اس لیے ڈاکٹر اور طبیب حاذق یہ تو کہہ سکتا ہے کہ زمین پر سجدہ کرنا آپ کیلئے نقصان دہ ہے ، یا روزہ رکھنا نقصان دہ ہے ، مرض بڑھنے کا اندیشہ ہے، لیکن اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ یہ ڈاکٹر نہیں بتا سکتا ، اس کے لیے مستند مفتی سے رجوع کرناضروری ہے۔


حوالہ:

فی الشامیہ :  (۲/۴۲۲)
خافت بعلبۃ الظن علی نفسھا أو ولدھا وقیدہ البھنسی تبعا لابن الکمال بما اِذا تعینت للارضاع أو مریض خاف الزیادۃ لمرضہ و صحیح خاف الرمض و خادمۃ خافت الضعف بغلبۃ الظن بأمارۃ أو بجربۃ أو باخبارطیب حاذق مسلم مستور۔۔۔۔۔۔واللہ سبحانہ اعلم

 


Fatwa No. fno62.1512-24.02.2013

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com