Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال:

اگرڈاکٹرکسی لیبارٹری والے، کسی ایکسرے والے، الٹراساؤنڈوالے یاسی ٹی سکین والے سے کہے کہ اگرمیں تمہارے پاس مریض کوٹیسٹ کیلئے، ایکسرے کیلئے یاسی ٹی سکین وغیرہ کیلئے بھیجوں توتم نے مجھے اس ٹیسٹ کی فیس کے اتنے فیصدپیسے دینے ہیں۔ کیاڈاکٹرکیلئے یہ پیسے لیبارٹری والے، ایکسرے والے یاسی ٹی سکین والے وغیرہ سے لیناجائزہے؟


جواب:

(تمہید) سوالات کے جوابات سے پہلے تمہیدکے طورپربات سمجھ لیں کہ طب اورڈاکٹری ایک ایساشعبہ ہے جس میں ڈاکٹرکامریض کی مصلحت اوراس کی خیرخواہی کومدِّ نظررکھناشرعی اوراخلاقی تقاضاہے۔ اس بناء پرڈاکٹراورمریض کے معاملہ کی ہروہ صورت جومریض کی مصلحت اورفائدے کے خلاف ہویاجس میں ڈاکٹراپنے پیشہ یامریض کے ساتھ کسی قسم کی خیانت یابددیانتی کامرتکب ہوتاہو، درست نہیں۔ لہٰذااگرڈاکٹراپنے مالی فائدے یاکسی اورقسم کاذاتی منفعت ہی کوملحوظ رکھتاہے اورمریض کی مصلحت اورفائدے سے صرفِ نظرکرتے ہوئے علاج تجویزکرتاہے تویہ دیانت کے خلاف ہے، جس کی وجہ سے ڈاکٹرگناہگارہوگا۔ اوراگرصورتحال ایسی نہیں توپھرڈاکٹرگناہگارنہ ہوگا۔ اس تمہیدکے بعدسوالات کاجواب ذیل میں ملاحظہ ہو!

جواب: ذکرکردہ تمہیدکی روشنی میں ڈاکٹرکامریض کومخصوص لیبارٹری یاہسپتال کی طرف بھیجنااورپھراس پران سے کمیشن وصول کرنا، چندشرائط کے ساتھ جائزہے اوروہ شرائط یہ ہیں۔

(۱) اپنے فہم وتجربہ کی روشنی میں ان کی طرف بھیجنامریض کیلئے زیادہ مفیداورزیادہ تسلی بخش سمجھتاہو۔

(۲) انہی سے علاج یاٹیسٹ کروانے پرمریض کومجبورنہ کیاجاتاہو۔

(۳) کمیشن فیصدکے اعتبارسے یامتعین رقم کی صورت میں طے ہو۔

(۴) کمیشن اداکرنے کی وجہ سے لیبارٹری یاہسپتال والے مریض سے علاج اورٹیسٹ کے سلسلہ میں کسی قسم کادھوکہ نہ کرتے ہوں۔ (۵) اس کمیشن کی ادائیگی کابوجھ ریٹ بڑھاکرمریض پرنہ ڈالاجائے، بلکہ کمیشن دینے والے حاصل شدہ نفع سے کمیشن اداکریں۔

(۶) مریض کوبلاوجہ اورضرورت سے زائدٹیسٹ لکھ کرنہ دیئے جائیں۔

اگران شرائط کالحاظ نہیں کیاجاتاتوپھرڈاکٹرکیلئے کمیشن وصول کرنااورلیبارٹری یاہسپتال والوں کاکمیشن دیناجائزنہیں۔


حوالہ:


Fatwa No. fno68.410

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com