Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

سوال:

جو ڈاکٹر مریض کو ایسی لیب میں بھیجے جو اُسکو کمیشن دے حالانکہ اس کے مقابلہ میں اچھی اور سستی لیب موجود ہوں تو کیا ایسے ڈاکٹر کی آمدنی حلال ہے؟


 الجواب حامد او مصلیا:

فیس لینے کی وجہ سے ڈاکٹر مریض کا اجیر ہے، اس کے فرائض میں یہ داخل ہے کہ مریض کیلئے اپنے علم کے مطابق بہترین دوا لکھے۔ اور بہترین لیبارٹری کی طرف رہنمائی کرے، اگر ڈاکٹر کمیشن کی خاطر یا کسی اور فائدے کی خاطر مریض کو غیر معیاری لیبارٹری کی رہنمائی کرتا ہے تو یہ خیانت میں داخل ہے۔ اس صورت میں کمیشن تو ڈاکٹر کے لیے حلال نہیں ہے ، البتہ مریض کا مرض تشخیص کرنے اور اپنے علم کی حد تک بہترین دوا لکھنے کی اجرت حلال ہوگی اور اگر اس معاملے میں بھی کوتاہی کی تو اجرت حلال نہیں نہیں ہوگی۔۔۔واللہ اعلم بالصواب


Fatwa No. fno53.1571-29.10.2013

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com