Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال:

لیبارٹری والا ڈاکٹر سے کہتا ہے تم میرے پاس مریض بھیجا کرو میں 40%تمھیں دونگا اگر تم چاہو تو 40%مریض کے Discountلکھ دو یا دوسری صورت میں 40%میں تمھیں دونگا۔ ڈاکٹر چاہے تو Discount 40%لکھ دے تاکہ مریض کا بھلا ہو یا پھر 40%خود لے کر اپنے ذاتی استعمال میں لائے عموماً کمیشن کا بوجھ مریض پر پڑتا ہے۔ڈاکٹر کو کیا کرنا چاہیےDiscountلکھ دے یا پھر40%اپنے ذاتی استعمال میں لے آئے؟


الجواب حامد او مصلیا:

ڈاکٹر مریض سے فیس لیکر اپنا وقت اس کو بیچ دیتا ہے ، اس وقت میں اپنے علم کے مطابق بہترین دوا اور ٹیسٹ لکھنا اور بہترین لیبارٹری کی رہنمائی کرنا ڈاکٹر کے فرائض میں داخل ہے لہذٰا لیبارٹری والے سے کمیشن لینا ڈاکٹر کیلئے جائز نہیں ، یہ رشوت میں داخل ہے ، اور پھر اس کمیشن کا بوجھ مریض پر ڈالنا دوہرا گناہ ہے۔ ہاں اگر ڈاکٹر مریض کیساتھ رعایت کا لکھ دے اپنے لئے کچھ نہ لے تو اس کی گنجائش ہے۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب


Fatwa No. fno52.1571-30.10.2013

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com