Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

 سوال:

کیافرماتے ہیں حضراتِ علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں؟
(الف) ڈاکٹری کی روسے خاندان میں شادیاں کرنے سے وراثتی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ شریعت میں اس کی کیاحقیقت ہے؟
(ب)خاندان میں شادی کرناافضل ہے یاخاندان سے باہرشرعی لحاظ سے؟
(ج) کیانبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے کہیں چچازاداورماموں زادکے علاوہ دورکے رشتہ داروں میں یااورکسی خاندان میں شادی کرنے کی ترغیب دی ہے (میں نے کسی کتاب میں یہ پڑھاتھا، کتاب کانام یادنہیں)۔
(د)کیاآدمی وراثتی بیماریوں سے بچنے کیلئے خاندان سے باہرشادی کرسکتاہے؟


جواب:

نکاح کرتے وقت جن اوصاف کومدِّ نظررکھاجاتاہے، ان میں سے ایک عورت کے حسب یعنی خاندان، شرافت کودیکھناہے۔ لیکن شریعت نے اصل بنیاددین کوٹھہرایاہے۔ لہٰذااگراپنے خاندان میں دینداررشتہ نہ ملتاہواورنسبتاً بعیدخاندان میں دینداررشتہ ملتاہوتوشادی کرنے میں اس کوترجیح دیناچاہئے۔ جیساکہ ’’مصنف عبدالرزاق‘‘ میں روایت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا، جب تمہارے پاس ایسارشتہ آئے جس کی امانت داری اوراچھے اخلاق سے تم رضامندہوتونکاح کردیاکرو، وہ کوئی بھی ہواس لئے کہ اگرتم ایسانہیب¨ کروگے توزمین پرفسادپیداہوجائے گا۔
رہاخاندان میں زیادہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ شادیاں کرنے سے وراثتی بیماریوں کاآنے والی نسل میں منتقل ہونایابچے کاجسمانی اورذہنی اعتبارسے ضعیف ہونا، سوشریعت میں اس کاکوئی ثبوت نہیں۔ اس کاتعلق تجربے سے ہے اورتجربہ شاہدہے کہ کبھی ایسے نکاح کے بعدکوئی بیماری ظاہرنہیں ہوتی، کبھی ہوجاتی ہے۔ لہٰذااس بناء پررشتہ داروں سے نکاح کوہمیشہ کیلئے براسمجھنادرست نہیں۔ البتہ اگرکوئی شخص سبب کے درجہ میں طبی احتیاط کے طورپراس سے اجتناب کرے تب بھی شرعاً کوئی مانع نہیں ہے۔
بعض کتابوں میں ایک بات حدیث کے طورپرپیش کی جاتی ہے، ’’لاتنکحواالقرابۃ القریبۃ فان الولدیخلق ضاویاً ای نحیفاً‘‘ یعنی قریبی رشتہ داروں سے شادی نہ کرو، اس لئے کہ اس سے اولادضعیف پیداہوتی ہے۔ لیکن اس بات کاحدیث ہوناسندسے ثابت نہیں۔
حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کہ اگریہ بات بطورِ حدیث کے مانی جائے تواس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اوراگریہ بات تجربہ پرمبنی ہے توقبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
علامہ زبیدیؒ نے اس حدیث کے متعلق ابن صلاحؒ کاقول ’’اتحاف السادۃ المتقین‘‘ میں نقل کیاہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس حدیث کی کوئی قابلِ اعتماداصل نہیں مل سکی۔
حاصل یہ کہ شریعت کے طرف سے نہ اپنے خاندان میں شادی کرنے کی ممانعت ہے اورنہ غیرخاندان میں شادی کرنے کی ترغیب۔ البتہ فطری شرافت دینداری اورمستقبل میں موافقت جیسے اُمورکاخیال رکھنابہرحال ضروری ہے۔ اوراگراپنے قریبی خاندان میں شادی کرناکسی مصلحت کے خلاف ہوجس میں طبی مصلحت بھی داخل ہے توپھردوسرے خاندان میں شادی کرنابہترہے۔


حوالہ:

عن ابی ھریرۃؓ عن النبی قال تنکح المرأۃ لاربع لمالہاولحسبہاولجمالہاولدینہافاظفربذات الدین تربت یداک۔ (بخاری ۲،۷۶۲)
عن عبدالرزق عن معمرعن یحی بن أبی کثیرقال قال رسول اذاجاء کم من ترضون أمانتہ وخلقہ فانکحوہ کائناً من کان فان لاتفعلواتکن فتنۃ فی الأرض وفسادکبیرأ وقال عریض (مصنف عبدالرزاق ۶: ۱۵۳)
لاتنکحواالقرابۃ فان الولدیخلق ضاویاً نحیفاقال المختصرلیس بمرفوع (الفوائدالمجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للشوکانی ۱۳۱)
لاتنکحواالقرابۃ القریبۃ فان الولدیخلق ضاویاَ ای نحیفاً لیس بمرفوع تذکرۃ الموضوعات للفتنی ۱۳۷۔
ان لاتکون من القرابۃ القریبۃ فان ذالک یقلل الشہوۃ قال رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وسلم لاتنکحواالقرابۃ القریبۃ فان الولدیخلق ضاویاً ای نحیفاً اصلہ ضاووی وزنہ فاعول (ای نحیفاً) قلیل الجسم وجاریۃ ضاویۃ کذالک کذافی الصحاح قال ابن صلاح لم أجدلہذاالحدیث اصلاً معتمداً قال العراقی انمایعرف من قول عمرؓ انہ قال لال السائب قدأضویتم فانکحوافی النزائع رواہ ابراہیم الحربی فی غریب الحدیث وقال معناہ تزوجوافی الغرائب قال ویقال اغتربواولاتضوواوللطبرانی من طلحۃ بن عبداللّٰہ ’’الناکح فی قومہ کالعشب فی دارہ‘‘ فی اسنادہ سلیمان بن ایوب الطلحی قال ابن عدی عامۃ احادیثہ عندی صحاح ورجحہاالضیاء المقدسی فی المختارۃ قلت وفی الصحاح للجوہری فی الحدیث اغتربواولاتضوواأی تزوجوافی الأجنبیات ولاتتزوجوافی العمومۃ وذالک ان العرب تزعم ان ولدالرجل من قرابتہ یجئی ضاویاً ای نحیفاً غیرأنہ یجئی کریماً علی طبع قومہ۔ (اتحاف السادۃ المتقین لزبیدی ۵:۳۴۹)
اماقول بعض الشافعیۃ یستحب أن لاتکون المرأۃ ذات قریبۃ فان کان مستنداً الی الخبرفلااصل لہ أوالی التجربۃ وھوأن الغالب أن الولدبین القرابتین یکون أحمق فھومتجہ۔ (فتح الباری ۹:۱۳۵)
الاغتراب فی الزوج
من توجیہات السلام الحکمیۃ فی اختیارالزوجۃ تفضیل المرأۃ الأجنبیۃ علی النساء ذوات النسب والقرابۃ حرصاً علی نجابۃ الولدوضماناً لسلامۃ جسمہ من الأمراض الساریۃ والعاہات الورائیۃ وتوسعاً لدائرۃ التعارف الأسریۃ وتمتیناً للروابط الاجتماعیۃ ففی ھذاتزدادأجسامہم قوۃ ووحدتہم تماسکاوصلابۃ وتعارفہم سعۃ وانتشاراً فلاعجب ان تری النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قدحذرمن الزواج بذوات النسب والقرابۃ حتی لان ینشاء الولدضعیفاً وتنحذرالیہ عاھات أبویہ وامراض جدودہ فمن تحذیرانہ علیہ الصلاۃ والسلام فی ہذاقولہ لاتنکحواالقرابۃ فان الولدتخلق ضاویاً ای نحیفاً وقولہ اغتربواولاتضوواقال الشیخ عبداللّٰہ ناصح لم اعثرعلی تخریج المحدثین حتی الآن۔ (تربیۃ الاولادفی الاسلام ۱،۳۹)۔


Fatwa No. fno24.284

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com