Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

  سوال:

وہ کونسی صورتیں ہیں جس میں مرد Gynacologist سے آپریشن کرواسکتے ہیں؟


جواب:

اگرکوئی بیماری ایسی ہوجس میں ناقابلِ برداشت دردہویاکوئی آپریشن وغیرہ ایساہوکہ اس کے بغیرعورت کی جان کی ہلاکت کااندیشہ ہویابیماری کاعلاج ممکن نہ ہواورکوئی لیڈی ڈاکٹرمیسرنہ ہوجس سے تسلی بخش علاج ہوسکے اورکسی عورت کودواوغیرہ بتاکرعلاج کرنابھی ممکن نہ ہوتوسخت مجبوری کی حالت میں اجنبی مردڈاکٹرسے علاج اورآپریشن کراناجائزہے اورایسی مجبوری کی حالت میں عورت مرد’’Gynoeclologist‘‘ کے پاس جاسکتی ہے۔ لیکن اس مجبوری کی صورت میں بھی یہ ضروری ہے کہ بدن کاصرف اتناحصہ ہی کھولاجائے جتناعلاج کیلئے ضروری ہے۔ باقی پورے بدن کومکمل طورپرڈھانپ لیاجائے اورڈاکٹربھی صرف بقدرِ ضرورت نظرڈالے اورجسم کے باقی حصوں کودیکھنے سے اپنی نگاہ نیچی رکھے۔


حوالہ:

فی الشامیۃ: وقال فی الجوہرۃ اذاکان المرض فی سائربدنہاغیرالفرج یجوزالنظرالیہ عندالدواء لأنہ موضع الضرورۃ وان کان فی موضع الفرج فینبغی أن یعلم امرأۃ تداویہافان لم توجدوخافواعلیہاأن تہلک أویصیبہاوجع لاتحتملہ یستروامنہاکل شیٍٔ الّاموضع تلک القرحۃ ثم یداویہاالرجل ویغض بصرہ مااستطاع الّاعن ذٰلک الموضع ولافرق فی ھٰذابین ذوات المحارم وغیرہن لأن النظرالی العورۃ لایحل بسبب المحرمیۃ کذافی فتاویٰ قاضی خان (ص۳۳۰،ج۵)


Fatwa No. fno55

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com