Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - جنوری - 2018
۲۸ - ربيع الثاني - ۱۴۳۹

 سوال:

کیا فرماتے ہیں حضرات علماء کرام ان درج ذیل مسائل کے بارے میں؟
(الف) اگر حمل کے چھٹے یا ساتویں مہینے میں معلوم ہو کہ بچہ معذور ہے تو کیا اسقاط حمل کروایا جا سکتا ہے؟
(ب) اگر ماں کی صحت کو خطرہ ہو تو چھٹے ساتویں مہینے میں اسقاط کروا سکتی ہے؟


جواب:

حامداً و مصلیاً
(الف، ب) شرعاً چھ سات ماہ کے بعد بلکہ چار ماہ کے بعد بھی بچے کے معذور ہونے، کمزور ہونے یا عورت کی صحت کو خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے اسقاط حمل جائز نہیں کیونکہ اس میں قتل نفس کا گناہ ہے جو گناہ عظیم ہے۔
لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اسقاطِ حمل ناجائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے اور صحت کیلئے جہاں تک ہو سکے احتیاطی تدابیر بھی کرتے رہنا چاہئے۔


حوالہ:

فی الدرص ۱۷۶ ج ۳ وقالوا یباح اسقاط الولد قبل اربعۃ اشہر لو بلا اذن الزوج
وفی الشامی تحت قولہ (وقالوا) فی النہر بقی ھل یباح الاسقاط بعد الحمل نعم یباح ما لم یتخلق منہ شیء ولن یکون ذلک الا بعد مائۃ وعشرین یوما وہٰذا یقتضی انہم ارادوا بالتخلیق نفخ الروح والا فھو غلط لان التخلیق یتخلق بالمشاہدۃ قبل ہذہ المدۃ کذا فی الفتح واطلاقہم یفید عدم توقف جواز اسقاطہا قبل المدۃ المذکورۃ علی اذن الزوج وفی کراہتہ الخانیۃٰ۔ ولا اقول بالحل اذا دخل الھرم لو کسر بیض الصید ضمنہ لانہ اصل الصید فلما کان یؤاخذہ بالجزاء فلا اقل من ان یلحقہا اثم اذا اسقطت بغیر عذر قال ابن وہیان ومن الاعذار ان ینقطع لبنہا قبل ظہور الحمل لیس لابی الصبی ما یستاجر بہ الظئر ویخاف ہلاکہ ونقل من الذخیرۃ لو ارادت الالقاء قبل مضی الزمن ینفخ فیہ الروح ہل یباح لھا ذلک ام لا؟ اختلفوا فیہ وکان الفقیہ علی بن موسٰی یقول انہ یکرہ فان الماء بعد ما وقع فی الرحم ما لہ الحیاۃ فیکون لہ حکم الحیاۃ کما فی بیضۃ صید الحرم ونحوہ فی الظہیریۃ قال ابن وہیان فاما اباحۃ الاسقاط محمولۃ العذر او انہا لا تاثّم اثم القتل۔
فی الہندیۃ ص /۳۵۶ ج ۵ العلاج لاسقاط الولد اسبتان خلقہ کالشعر والظفر ونحوھما لا یجوز وان کان غیر مستبین المحلق یجوز واما فی زماننا یجوز علی کل حال وعلیہ الفتویٰ واللّٰہ اعلم بالصواب۔


Fatwa No. fno459.25-10.08.10.02

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com