Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - دسمبر - 2017
۲۷ - ربيع الأول - ۱۴۳۹

سوال:

کیامنصوبہ بندی جائزہے یانہیں؟
(الف)۔ اگرماں کی صحت کوخطرہ ہوتوکیامنصوبہ بندی کرائی جاسکتی ہے؟
(ب)۔ کیااولادکی پیدائش میں وقفہ کرناجائزہے؟
(ج)۔ وہ کونسی صورتیں ہیں جن میں منصوبہ بندی جائزہے؟
(د)۔ وہ کونسی صورتیں ہیں جن میں بچوں کی پیدائش میں وقفہ کرناجائزہے؟


جواب:

الف تاد: خاندانی منصوبہ بندی کیلئے ایسی صورت اختیارکرناجس کے سبب دائمی طورپراولادپیداکرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجائے خواہ مردکی طرف سے ہویاعورت کی طرف سے، کسی دوایاانجکشن کے ذریعہ یاآپریشن یاخارجی تدابیرسے کوئی ایساطریقہ اختیارکرناجائزنہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کومنع فرمایا۔ صحیح بخاری میں یہ واقعہ مذکورہے۔
قال عبداللّٰہ کنانغزومع رسول اللّٰہؐ ولیس لناشیٔ فقلناالانستخصی فنھاناعن ذالک (بخاری شریف ج اص ۷۰۹)
البتہ کمزورعورت کوحمل کی وجہ سے شدیدتکلیف ہوتی ہویااس کاحاملہ ہونادوسری اولادکیلئے مضرہوتووقتی طورپرایسی تدابیراختیارکرنایادواکھالیناتاکہ دویاتین سال یاتندرست ہونے تک حمل قرارنہ پائے تواس کی گنجائش ہے۔

حوالہ:

قال عبداللّٰہ کنانغزومع رسول اللّٰہؐ ولیس لناشیٔ فقلناالانستخصی فنھاناعن ذالک (بخاری شریف ج اص ۷۰۹)


Fatwa No. fno40.245

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com