Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

17 - جنوری - 2018
۲۸ - ربيع الثاني - ۱۴۳۹

 سوال:

کیاڈاکٹرنامحرم مستورات کامعائنہ ؟


جواب:

مردڈاکٹرکیلئے بلاضرورت نامحرم عورت کے علاج کیلئے معائنہ کرنادرست نہیں، بلکہ یہ کام کسی لیڈی ڈاکٹرکے سپردکرناچاہئے اورحتی المقدورمردڈاکٹرکونامحرم عورت کامعائنہ کرنے سے پرہیزکرناچاہئے۔ لیکن اگرکوئی لیڈی ڈاکٹرمیسرنہ ہویامیسرہومگراس کامعائنہ اطمینان بخش نہ ہوتوسخت مجبوری کی حالت میں مردڈاکٹربھی چندشرائط کے ساتھ نامحرم عورت کامعائنہ کرسکتاہے۔

٭ مریض کے صرف اس حصہ کودیکھے جہاں بیماری ہو، باقی پوراجسم اچھی طرح پردہ میں چھپاہواہو۔

٭ ڈاکٹراپنی نظرکومریضۂ نامحرم عورت کے دوسرے اعضاء سے بچانے کی ہرممکن کوشش کرے اورحتی المقدوراپنے دل کوبھی شہوت سے بچائے


حوالہ:

وفی الھندیۃ: امرأۃ اصابتہاقرحۃ فی موضع لایحل للرجل ان ینظرالیہ، لایحل ان ینظرالیہا، لکن تعلم امرأۃ تداویہافان لم یجدواامرأۃ تداویہاولاامرأۃ تتعلم ذلک اذاعلمت وخیف علیہاالبلاء اوالوجع اوالہلاک فانہ یسترمنہاکل شیٔ الاموضع تلک القرحۃ ثم یداویہاالرجل ویغضّ بصرہ مااستطاع الاعن ذالک الموضع، ولافرق فی ہذابین ذوات المحارم وغیرھن لان النظرالٰی عورۃ لایحل بسبب المحرمیۃ، کذافی فتاویٰ قاضی خان (۳۳۰/۵)

وفی الدرالمختار: (وشرائطہاومداوتہاینظر) الطیب (الٰی موضع مرضہابقدرالضرورۃ) اذالضرورات تتقدربقدرہاوکذانظرقابلۃ وختّان وینبغی ان یعلم امرأۃ تداویہالأن نظرالجنس الی الجنس اخف وفی الشامیۃ تحت قولہ (وینبغی) الخ فینبغی ان یعلم امرأۃ تداویہافان لم توجدوخافواعلیہاان تہلک اویصیبہاوجع لاتحتملہ، یستتروامنہاکل شیٔ الاموضع العلۃ، ثم یداویہاالرجل ویغض بصرہ مااستطاع الاعن موضع الجرح اہ فتأمل والظاہران ینبغی ہناللوجوب (ج۶، ص۳۷/۳۷۱)۔


Fatwa No. fno27.426

View Original Fatwa | Download Original Fatwa

comments powered by Disqus

Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com