Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال

بعض امراض کے بارے میں کہاجاتاہے کہ لاعلاج ہیں جیسے کینسرکی بعض اقسام ایڈزوغیرہ، حالانکہ حدیث پاک میں آتاہے، لکل داء دواء (اوکماقال علیہ السلام) اس کی تطبیق کی کیاصورت ہوگی؟


جواب:

یہ حدیث بالکل صحیح ہے، لکل داء دواء کہ اللہ تعالیٰ نے ہربیماری کیلئے دوارکھی ہے۔ اب تک بظاہرجن بیماریوں کاعلاج دریافت نہیں ہوا، اس کایہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے دوانہیں رکھی، بلکہ ان کی بھی دوااللہ تعالیٰ نے پیداکی ہے لیکن اب تک یاتوانسانی ذہن کی وہاں تک رسائی نہیں ہوئی یااگررسائی ہوئی بھی ہے توانسان کوان کے ذریعہ علاج کاطریقہ نہیں ہوسکاورنہ دوابہرحال موجودہے۔


حوالہ:

فی التکملۃ: ۳۳۴/۴: قولہ لکل داء دواء وربمایستشکل ہذابان کثیراً من المرضی یداوون ولایبرنون واجاب عنہ القاضی عیاض رحمہ اللّٰہ بان عدم البرء انمایکون لعدم العلم بحقیقۃ المداواۃ لالعدم الدواء وکذالک الامراض التی یقال فیہاانہالیس لہاعلاج فان ذلک لعدم العلم بطرق العلاج لالان الدواء غیرموجود۔ واللّٰہ سبحانہٗ اعلم۔

comments powered by Disqus
Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com