Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال

(الف) چھوت کی بیماری کے بارے میں اسلام کیافرماتاہے؟

(ب) چھوت والی بیماری والے آدمی کے ساتھ نہ بیٹھنا، نہ کھانا، نہ ہاتھ ملاناوغیرہ وغیرہ سے گناہ تونہیں ہوگا


جواب:

(الف) ایک کی بیماری دوسرے کی طرف سرایت کرتی ہے یانہیں؟ اس میں احادیث مختلف ہیں۔ بعض حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ ایک بیماری دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتی۔ جبکہ دوسری بعض حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ بعض بیماری دوسرے کی طرف سرایت کرتی ہے۔ احادیث کے اس تعارض کودورکرتے ہوئے محدثین کرامؒ نے ان احادیث کی جوتشریح فرمائی ہے اس کاخلاصہ درج ذیل ہے۔

جن احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتی اس کامطلب یہ ہے کہ اس طرح کاعقیدہ رکھناباطل ہے اوراس کومؤثرنہیں سمجھناچاہئے۔ کیونکہ مؤثرحقیقی اللہ سبحانہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے بیماری بذات خودمؤثرنہیں اوراللہ کے حکم کے بغیربیماری نہیں لگتی اورجن احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ بعض بیماری دوسرے کی طرف سرایت کرتی ہے اس کامطلب یہ ہے کہ کمزوردل والوں کوچاہئے کہ اس قسم کے مریض سے ملنے جلنے سے احتیاطاً پرہیزکریں اگرچہ اعتقادایسانہ سمجھیں۔

جواب: (ب) بطوراعتقادایساکرناتوگناہ ہے تاہم بطوراحتیاط اگرایساکرے تواس میں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ واللہ سبحانہ اعلم۔


حوالہ:

comments powered by Disqus
Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com