Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال

کیاکسی مریض کوتکلیف میں دیکھ کراس کے لئے موت کی دعاکی جاسکتی ہے تاکہ اس کی تکلیف کم ہو۔ جیسے کینسرکے مریض کے لئے


جواب:

مریض کے لئے شفاء اورعافیت کی دعاکرنامسنون ہے اورشدیدمرض یاکسی بھی دنیاوی مصیبت کی وجہ سے موت کی دعاکرناجائزنہیں ہے اوریہ کہناکہ مرنے کے بعدتکلیف ختم ہوجائیگی اس لئے صحیح نہیں کہ مرنے کے بعداللہ تعالیٰ کیامعاملہ فرمائیں اس کایقینی علم کسی کونہیں۔ البتہ اگرتکلیف پرصبرمشکل ہوجائے تومریض کے لئے اس طرح دعاکرنے کی گنجائش ہے کہ یااللہ جب تک میرے لئے زندگی بہترہے مجھے زندہ رکھ، اورجب موت بہترہومجھے موت عطافرمااوراس شخص کے لئے راحت وآرام کی دعابھی کی جاسکتی ہے۔


حوالہ:

عن حارثۃ بن مضرب قال: دخلت علی خباب وقداکتوی سبعافقال لولاانی سمعت رسول اللّٰہؐ یقول لایتمن احدکم الموت لتمنیۃ الخ مشکوٰۃ ص۱۴۰ج۱۔

قال ملاعلی القاری تحت قولہ (لایتمن احدکم الموت) ای بضرنزل بہ (لتمنیۃ) ای لأ ستریح من شدۃ المرض اللذی من شأن الجبلۃ البشریۃ ان تنفرمنہ ولاتصبرعلیہ مرقاۃ ص ۸۱ج۴۔

عن انس بن مالک قال قال رسول اللّٰہؐ لایدعون احدکم الموت لضرنزل بہ ولکن یقل اللّٰہم أحینی ماکانت الحیوٰۃ خیراً لی وتوفّنی اذاکانت الوفاۃ خیراً لی ابوداؤدص۸۷ج۶۔

وقال التورپشتی: النہی عن تمنی الموت وان کان مطلقالکن المرادبہ المقیدلمافی حدیث انسؓ لایتمنین أحدکم الموت من ضرأصابہ وقولہؑ وتوفنی اذاکانت الوفاۃ خیراً لی فعلی ہذایکرہ تمنی الموت من ضراصابہ فی نفسہ أومالہ لانہ فی معنی التبرم من قضاء اللّٰہ تعالٰی ولایکرہ التمنی لخوف فسادفی دینہ (المرقات شرح مشکوٰۃ) ص۶۵ج۴۔

comments powered by Disqus
Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com