Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال

ایک مریض ہے، اس کی Brain Death (دماغ ماؤف) ہوچکی ہے۔ اس کوسانس مصنوعی طریقے (Ventilatro) کے ذریعے دیاجارہاہے۔ اس کادِل حرکت کررہاہے۔ اگراس کاVentilator ہٹادیاجائے تواس کی دِل کی حرکت بھی بندہوجائے گی، اس کی موت واقع ہوجائیگی۔ سانس ایسامریض خودنہیں لے سکتا، کیونکہ اس کی Brain Death ہوچکی ہے توکیا(۱) ایسے مریض کاVentilator لگارہے یاایسے مریض کاVentilatro اُتاردیاجائے؟ کیونکہ Ventilator پررکھنے کاکوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ Brain Death ہوچکی ہے اورBrain Death ہوجائے توپھردماغ دوبارہ کام شروع نہیں کرتا۔


جواب:

بعض انتہائی سنگین بیماری میں مبتلاء افرادکے دِل کی حرکت برقراررکھنے کیلئے آج کل ایسے آلات استعمال کئے جاتے ہیں جودِل کومصنوعی طورپرحرکت دیتے رہتے ہیں۔ اس حالت میں بعض اوقات اطباء اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ مریض کے دماغ کی موت واقع ہوگئی ہے، لیکن قلب کی حرکت اورسانس مصنوعی آلات کی مددسے اس طرح جاری رہتاہے کہ اگروہ آلات ہٹادئیے جائیں توحرکتِ قلب بندہوجائے۔ تواگرایسے شخص میں مندرجہ ذیل علامتوں میں سے کوئی ایک علامت ظاہرہوجائے توشرعاً اُسے مُردہ تصورکیاجائیگااوراس پرموت کے تمام احکام جاری ہونگے۔

(۱) اب جب اس شخص کاقلب اورتنفّس مکمل طورپراس طرح رک جائے کہ ماہراطباء یہ کہیں کہ اب اس کی واپسی ممکن نہیں۔

(۲) جب اس کے دماغ کے تمام وظائف بالکل معطل ہوجائیں اوراطباء وماہرین اس بات پرمتفق ہوں کہ دماغ کے اس تعطّل کی واپسی ممکن نہیں اوراس کے دماغ کی تحلیل شروع ہوچکی ہے، ایسی حالت میں محرک آلات کواس شخص سے ہٹالیناجائزہے۔ خواہ اس کے بعض اعضاء مثلاً قلب محض آلے کی وجہ سے مصنوعی حرکت کررہاہو۔ (مأخذقراردادِ اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ ۱۹۸۴؁ھ ص ۴۷)


حوالہ:

comments powered by Disqus
Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com