Raiwind Jor 2015 Bayans Listen & Download

Arrow up
Arrow down

+

20 - جنوری - 2018
۲ - جمادى الأولى - ۱۴۳۹

سوال

(الف) بعض دفعہ بیماری کی وجہ سے مریض کے ہاتھ ٹانگ کوکاٹناپڑتاہے تاکہ یہ بیماری پورے جسم میں سرایت نہ کرے توکیاشرعی لحاظ سے مریض کے کسی عضوکاکاٹناصحیح ہے؟



جواب:

(الف) جب ماہرمعالج کی رائے میں عضوکاٹنے کے علاوہ کوئی اورعلاج نہ ہوتوشرعاً اس اضطراری حالت میں بقدرضرورت عضوکاٹنے کی گنجائش ہے


حوالہ:

فی فتاوی النوازل للشیخ الفقیہ أبی ٭ السمرقندیؒ عن ہشامؒ انّہ لابأس بقطع الیدمن الاکلہ وشق البطن والمثانۃ ومایجری مجراہ یخشی التلف وأن لم یفعل ذلک قیل قدینجواوقدیموت أوقیل ینجواولایموت یعالج وان قیل لاینجواولایموت یعالج وان قیل لاینجواولایموت یعالج وقیل لاینجواصلایجوزترک المعالجۃ (۲۰۱ باب الکراہیۃ)

وفی الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ان عکرمۃ بن أبی جھل ضرب معاذؓ بن عمروفقطع یدہ فبقیت معلقۃ حتی تمطی فالقاہاوقاتل بقیۃ یومہ ثم بقی ذلک دھراحتی مات فی زمن عثمانؓ۔ (۳۔۴۲۹)

وفی الدرالمختارحامل ماتت وولدھاحی یضطرب شق بطنہامن الایسریخرج ولدہاولوبالعکس (فی الشرح: بأن مات الولدفی بطنہاوھی حیۃ) خیف علی الأم قطع وأخرج لومیتاوالالا۲۳۸/۲

comments powered by Disqus
Go to top
JSN Boot template designed by JoomlaShine.com